Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3349

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللّٰهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَطَاعَةِ سَيّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "نعما للمملوك أن يتوفاه الله بحسن عبادة ربه وطاعة سيده، نعما له". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے غلام کے لیے یہ بہت اچھا ہے ۱؎کہ اتعالٰی اسے اس حال میں موت دے کہ اپنے رب کی عبادت اور مولا کی اطاعت کرتا ہو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نعمااصل میںنعم ماتھانعمکی میمماکی میم میں مدغم ہوگئی۔
۲
؎دوبارنعمافرمانا یا تو تاکید کے لیے ہے یا پہلےنعماسے دنیا کی بہتری مراد تھی اور اسنعماسے آخرت کی بہتری مراد ہے یعنی اگر غلام مرتے دم تک اپنے مولیٰ کی اطاعت اور رب تعالٰی کی عبادت کرتا رہے تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے یا یہ دنیا میں بھی اچھا ہے اور آخرت میں بھی اچھا، کسی غلام کو اس کے مولیٰ نے آزاد کردیا غلام بہت رویا اور بولا کہ آپ نے میرے لیے خیر کا دروازہ بند کردیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کامل نیکی وہ ہے جو مرتے دم تک کی جائے،نیکی پر ہی موت آئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3349