Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3352

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ؛ فَإِن كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من ضرب غلاما له حدا لم يأته، أو لطمه؛ فإن كفارته أن يعتقه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے غلام کو وہ حد مارے ۱؎جو جرم اس نے کیا نہیں یا اسے طمانچہ مارے توا س کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بے قصور مارے پیٹے،حد سے مراد صرف شرعی حد نہیں بلکہ ہر سخت مار پیٹ ہے۔
۲
؎اس طمانچہ سے مراد ظلمًا طمانچہ مارنا ہے،ادب سکھانے پڑھانے پر طمانچہ مارنا درست ہے یہ ہی حکم شاگرد،مرید،بچے یا رعایا کو مارنے کا ہے کہ بلا قصور مار پر پکڑ ہے،اس کا کفارہ غلام کے لیے تو اسے آزاد کردینا ہے،اور باقی لوگوں کے لیے انہیں کچھ دے کر خوش کردینا ہے،یا اگر وہ لوگ معافی دینے کے لائق ہوں تو ان سے معافی مانگ لینا ہے۔یہ وہ معمولی باتیں ہیں جن کی ہم پرواہ نہیں کرتے مگر ہیں بڑی خطرناک۔میں نے سنا ہے کہ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرہ کے ہاں کوئی مزدور کام کررہا تھا کسی نے اسے کہہ دیا او حرامی،اعلیٰ حضرت نے فرمایا اس کی ماں کے زنا کے چار گواہ لاؤ وہ حیران ہوگیا،آخر کار اس نے مزدور سے معافی مانگی اسے پانچ روپے دیئے،اتعالٰی توفیق خیر دے،انسان اپنی زبان اور اعضاء پر پورا کنٹرول رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3352