Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3365

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَبَ لِعَلِيٍّ غُلَامًا فَقَالَ: "لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي" هَذَا لَفْظُ "الْمَصَابِيحِ".

وعن أبي أمامة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهب لعلي غلاما فقال: "لا تضربه، فإني نهيت عن ضرب أهل الصلاة، وقد رأيته يصلي" هذا لفظ "المصابيح".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو امامہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک غلام دیا، تو فرمایا اسے مارنا مت ۱؎کیونکہ مجھے نمازیوں کی مار سے منع کیا گیا ہے۲؎اور میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۳؎یہ مصابیح کے الفاظ ہیں

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تمہارا کوئی ذاتی قصور کرے تو حتی الامکان اسے نہ مارنا معاف کردینا یا جھڑک دینا۔
۲
؎یعنی مجھے میرے رب نے اپنی ذاتی معاملات میں نمازی کو مارنے سے منع فرمادیا ہے اس مار سے مراد شرعی حدود و تعزیرات کے سواء کی مار ہے،نمازی سے شرعی سزائیں معاف نہ ہوں گی تہمت کے اسی کوڑے مارے ہی جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔
۳
؎مطلب یہ ہے کہان شاءاﷲنمازی آدمی کو نماز ہی درست کردیتی ہے اسے مار پیٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ"اگر کسی وقت اتفاقًا اس سے کوئی قصور ہوجائے تو اسے مارتے کیوں ہو وہان شاءاﷲنماز کی برکت سے ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ حدیث ہم گنہگاروں کے لیے بہت ہی امید افزا ہے، اتعالٰی نماز کی پابندی اور جماعت کی توفیق دے توان شاءاﷲدنیا کی مار سے بھی بچیں گے اور رب تعالٰی اور اسکے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم آخرت کی سزا سے بھی بچائیں گے،جب یہاں شفاعت ہورہی ہے تو وہاں بھی شفاعت ہوگی۔شعر
جو یہاں عیب کسی کے نہیں کھلنے دیتے کب وہ چاہیں گے میری حشرمیں رسوائی ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3365