Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3362

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيِّ قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ لي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "رُدَّهُ رُدَّهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وعن علي قال: وهب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم غلامين أخوين، فبعت أحدهما فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا علي ما فعل غلامك؟ " فأخبرته فقال: "رده رده". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے دو غلام جو آپس میں بھائی تھے ۱؎عطا فرمائے میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا اے علی تمہارا غلام کیا ہوا میں نے آپ کو یہ خبر دی ۲؎تو فرمایا اسے واپس لے لو اسے واپس لے لو ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اور دونوں چھوٹے تھے یا ایک بڑا اور سمجھ دار تھا دوسرا چھوٹا ناسمجھ جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا جب دونوں بڑے ہوں تو ان میں علیحدگی کی جاسکتی ہے۔
۲
؎کہ میں نے اسے فروخت کردیا ہے دوسرا میرے پاس ہے۔
۳
؎یعنی بیع فسخ کر کے اسے واپس لے لو یہ مطلب نہیں کہ وہ بیع منعقد ہی نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی بیع مکروہ ہے کہ منعقد ہوچکنے کے بعد اس کا توڑ دینا بہتر ہے دوبارہ فرمانا کہ واپس لے لو واپس لے لو تاکید کے لیے ہے کہ ایسی بیع کا فسخ کردینا بہت ضروری ہے۔بعض روایات میں ہےادرك ادرك۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف ماں اور بچے میں جدائی کرنا ہی ممنوع نہیں بلکہ ہر دو ذی رحم قرابتداروں میں جدائی نہ کرے،یہ ہی مذہب امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3362