Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3360

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ، فَذَكَرَ اللّٰهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"، لَكِنْ عِنْدَهُ "فَلْيُمْسِكْ" بدل "فَارْفَعُوا أَيْدِيكُم".

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا ضرب أحدكم خادمه، فذكر الله فارفعوا أيديكم". رواه الترمذي والبيهقي في "شعب الإيمان"، لكن عنده "فليمسك" بدل "فارفعوا أيديكم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو وہ اکا ذکر کردے تو اپنے ہاتھ اٹھالو۱؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)لیکن ان کے نزدیک یوں ہےکہ اپنا ہاتھ روک لو بجائے اس کے کہ اپنے ہاتھ اُٹھالو ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تم اپنی نافرمانی یا تعلیم و تربیت کے لیے اپنے غلام،نوکر،شاگرد،بیٹے بیوی کو مارو اور وہ کہہ دے کہ اکو ضامن کرتا ہوں اب یہ قصور نہ کروں گا اور اب خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو تو تم اکے نام کا ادب کرتے ہو چھوڑ دو،شرعی حدود اس حکم سے خارج ہیں وہ تو مجرم پر پوری جاری کی جائیں گی۔
۲
؎ابوداؤد نے بروایت حضرت ابوہریرہ اس حدیث میں یہ زیادہ کیا کہ چہرہ پر نہ مارو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ چہرہ تمام اعضاء سے اشرف ہے اسے نہ بگاڑو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3360