Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3446

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ،وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ لِدِينِهِ التَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس،والثيب الزاني، والمارق لدينه التارك للجماعة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کسی اس مسلمان کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہوکہ اکے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اکا رسول ہوں ۱؎مگر تین حرفوں میں سے ایک سے،جان جان کے بدلے۲؎شادی شدہ زانی ۳؎اور اپنے دین سے نکل جانے والا جماعت کو چھوڑنے والا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںامرءٌسے مراد مطلق انسان ہے مرد ہو یا عورت،صرف مرد مراد نہیں کیونکہ یہ احکام عورت پر بھی جاری ہیں۔کلمہ طیبہ کا ذکر فرما کر اشارۃً فرمایا کہ ظاہری کلمہ گو جس میں علامت کفر موجود نہ ہو اس کا یہی حکم ہے،مراد کلمہ سے سارے عقائد اسلامیہ کا اقرارکرنا ہے۔
۲
؎یعنی اگر کوئی مسلمان کسی کو عمدًا قتل کردے تو مقتول کا ولی اسے قصاصًا قتل کراسکتا ہے۔
۳
؎آزاد مسلمان مرد جو ایک بار حلال صحبت کرچکا ہو اسے محصن کہتے ہیں اگر ایسا شخص زنا کرلے تو اس کو رجم یعنی سنگسار کیا جائے گا۔
۴
؎دین سے نکل جانے کی دو صورتیں ہیں:یا تو اسلام کو چھوڑکر یہودی،عیسائی،ہندو وغیرہ دوسری ملت میں داخل ہوجائے یا کلمہ گو تو رہے مگر کوئی کفریہ عقیدہ اختیارکرے جیسے مرزائی،خارجی،رافضی وغیرہ بن جائے وہ بھی اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے گا۔(از مرقات وغیرہ)مگر یہ قتل اور رجم حاکم اسلام کرسکتا ہے دوسرا نہیں کرسکتا۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ غلام آزاد کے عوض اور آزاد غلام کے عوض،عورت مرد کے عوض اور مرد عورت کے عوض قتل کیا جائے گا،یہ ہی امام اعظم قدس سرہ کا مذہب ہے یہی امام اعظم کی دلیل ہے۔مارق مروقسے بنا بمعنی نکلنا،اسی واسطے شوربے کومرقکہتے ہیں کہ وہ گوشت سے نکلتا ہے۔تارک الجماعت فرماکر ارشاد فرمایا کہ اجماع مسلمین کے خلاف عقیدہ اختیار کرنا کفر ہے،قرآن کریم کے وہ معنی کرنا جو اجماع کے خلاف ہوں کفر ہے،سب کا اجماع ہے کہاقیموالصلوۃمیں صلوۃ سے مراد موجودہ اسلامی نماز ہے اور خاتم النبیین سے مراد آخری نبی ہے جو صلوۃ سے مراد صرف اشاروں سے دعا مانگنا کرے اور خاتم النبیین کے معنے کرے اصلی نبی اور پھر حضور کے بعدکسی نبی کے آنے کی گنجائش مانے وہ کافر ہے اسے حاکم اسلام قتل کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3446