Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3471

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي فَقَالَ: "مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟ " قَالَ: ابْنِي اشْهَدْ بِهِ قَالَ: "أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" فِي أَوَّلِهِ: قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجْ الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ فَقَالَ: "أَنْتَ رَفِيقٌ وَاللّٰهُ الطَّبِيبُ".

وعن أبي رمثة قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أبي فقال: "من هذا الذي معك؟ " قال: ابني اشهد به قال: "أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه". رواه أبو داود والنسائي. وزاد في "شرح السنة" في أوله: قال: دخلت مع أبي على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فرأى أبي الذي بظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: دعني أعالج الذي بظهرك فإني طبيب فقال: "أنت رفيق والله الطبيب".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رمثہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ آیا تو فرمایا یہ جو تمہارے ساتھ ہے کون ہے ؟ عرض کیا حضور گواہ رہیں کہ یہ میرا بیٹا ہے۲؎فرمایا آگاہ رہو کہ نہ وہ تم پر جرم کرے گا نہ تم اس پر۳؎(ابوداؤد،نسائی)اور شرح سنہ میں اس کے اول میں یہ زیادہ فرمایا انہوں نے کہا میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے باپ نے وہ چیز دیکھی جو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی پیٹھ میں تھی۴؎عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کی پیٹھ والی چیز کا علاج کردوں کہ میں طبیب ہوں تو فرمایا کہ تم رفیق ہو اطبیب ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام رفاعہ ابن یثربی تمیمی ہے،آپ امرؤ القیس کی اولاد سے ہیں۔
۲
؎یااشہدصیغہ مخاطب امر ہے یعنی حضور گواہ رہیں یااشہدمتکلم مضارع ہے یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میری پشت سے ہے۔انکا مقصد یہ تھا کہ میں اور یہ چونکہ باپ بیٹے ہیں اس لیے میرے جرم کا یہ ذمہ دار ہوگا اور اس کے جرم کا میں ذمہ دار جیساکہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا اس لی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ فرمایا جو آگے مذکور ہے۔
۳
؎یعنی تمہارے جرم میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے جرم میں تم نہ پکڑے جاؤ گے،اس کا قصاص تم سے اور تمہارا قصاص اس سے نہ لیا جائے گا یا کل قیامت میں تمہارے گناہ میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے گناہ میں تم گرفتار نہ ہو گے اپنی کرنی اپنی بھرنی ہوگی۔خیال رہے کہ بچہ کے گناہ پر باپ کی پکڑ جب ہوگی جب باپ نے بچہ کی تربیت میں کوتاہی کرکے اسے مجرم بنایا ہو لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔
۴
؎مہر نبوت جو پشت پر دو کاندھوں کے درمیان پیدائش شریف سے ہی قدرتی طورپر انڈے کے برابر تھی ابھرا ہوا گوشت تھا یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دلیل تھی، یہ حضرت سمجھے کہ کوئی پھوڑا وغیرہ ہے عارضی بیماری اس لیے وہ عرض کیاجس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۵
؎یعنی یہ چیز قابل علاج نہیں بلکہ تم قابل علاج ہوکہ اس قسم کی گفتگو کررہے ہو اپنے کو شافی الامراض سمجھتے اور کہتے ہو،شافی امراض اتعالٰی ہے۔خیال رہے کہ یہاں طبیب بمعنی شافی مطلق ہے نہ کہ فن طب سیکھا ہوا لہذا اتعالٰی کو طبیب کہنا شرعًا درست نہیں کہ یہ لفظ طبابت کا پیشہ کرنے والوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسے اتعالٰی کو معلم نہیں کہہ سکتے اگرچہ وہ خود فرماتاہے:" ۔۔عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"کیونکہ معلم عمومًا تنخواہ دار مدرسین کو کہا جاتا ہے اور جو لفظ دو معنے رکھتا ہو اچھے اور برے اس کو اتعالٰی کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔اتعالٰی کے نام توقیفی ہیں جو نص میں وارد ہوگئے ان ہی سے اسے پکارا جائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3471