Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3466

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ يَوْمَ الدَّارِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللّٰهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثلاثٍ: زِنىً بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ أَوْ قتْلِ نفْسٍ بِغَيْر حق فَقتل بِهِ "؟ فو الله مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قَتَلْتُ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ فَبِمَ تَقْتُلُونَنِي؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه ، وَللدَّارِمِيِّ لَفْظُ الْحَدِيْثِ.

وعن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أن عثمان بن عفان أشرف يوم الدار فقال: أنشدكم بالله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: زنى بعد إحصان أو كفر بعد إسلام أو قتل نفس بغير حق فقتل به "؟ فو الله ما زنيت في جاهلية ولا إسلام ولا ارتددت منذ بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا قتلت النفس التي حرم الله فبم تقتلونني؟ رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه ، وللدارمي لفظ الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱؎کہ حضرت عثمان ابن عفان نے گھر کے محاصرہ کے دن جھانکا ۲؎پھر فرمایا تم کو اکی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں مگر تین سببوں میں سے ایک سے۳؎زنا کرنا بعد محصن ہونے کے یا اسلام کے بعد کفر کرنا یا ناحق کسی جان کو قتل کرنا کہ اس کے عوض قتل کیا جائے اکی قسم میں نے نہ تو جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام میں۴؎اور جب سے میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی کبھی مرتد نہ ہوا اور نہ میں نے کسی اس جان کو قتل کیا جسے انے حرام فرمایا پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو ۵؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ) اور حدیث کے الفاظ دارمی کے ہیں ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎ابو امامہ کا نام سعد ہے،علماء تابعین سے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات شریف سے دو سال پہلے ولادت ہوئی، خود حضور نے ان کا نام اور کنیت تجویز فرمائی،بہت لڑکپن کی وجہ سے زیارت نہ کرسکے،اپنے والد سہل اور حضرت ابو سعید خدری سے روایات لیں، ۱۰۰ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔(اشعہ)آپ کے والد سہل ابن حنیف صحابی ہیں،بدر و احد وغیرہ تمام غزوات میں حضور ے ساتھ رہے احد میں حضور کے قریب رہے ثابت قدم رہے اور خلافت علی مرتضٰی میں حضرت علی کی طرف سے مدینہ منورہ کے گورنر رہے، ۸۳ھ؁ ∞ ،میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎یعنی جب مصری و دیگر باغیوں نےآپ کا گھر گھیر لیا ا ورآپ مجبورًا گھر میں مقید ہوگئے تب گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر لوگوں کی طرف جھانک کر یہ فرمایا۔
۳
؎اس کلام میں خطاب ان لوگوں سے ہے جوآپ کا گھر گھیرے ہوئے آپ کے قتل کے درپے تھے،چونکہ یہ حدیث سب میں شائع ہوچکی تھی اس لیے آپ نے فرمایااتعلمون۔
۴
؎یہ حضرت عثمان کا بڑا ہی کمال ہے کہ عرب جیسے ملک میں رہ کر بہت مالدار ہوکر اسلام سے پہلے بھی زنا سے محفوظ رہے ورنہ زمانہ جاہلیت میں تو زنا پر فخر کیا جاتا تھا اتعالٰی نے اپنے محبوب کے اس صحابی کو زنا سے پہلے ہی سے محفوظ رکھا۔
۵
؎یعنی میرے قتل سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم کتنا بڑا گناہ کررہے ہو اور رب تعالٰی کے ہاں اس کا کیا جواب دو گے۔خیال رہے کہ باغی خارجی کو بھی بغاوت یا خروج کی وجہ سے قتل کرنا جائز ہے مگر یہ دونوں چیزیں بہت کم واقع ہوتی ہیں اس لیے ان کا ذکر اس حدیث میں نہیں آیا،نیز بغاوت و خراج شخصی جرم نہیں قومی جرم ہے یہاں شخصی جرم کا ذکر ہے لہذا نہ تو اس حدیث پر کوئی اعتراض ہے نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف۔
۶
؎یعنی الفاظ حدیث دارمی نے نقل فرمائے ورنہ یہ قصہ تو بہت کتب میں مروی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3466