Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3473

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَع عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَزَادَ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: "وَمن خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ".

وعن الحسن عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من قتل عبده قتلناه، ومن جدع عبده جدعناه". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي، وزاد النسائي في رواية أخرى: "ومن خصى عبده خصيناه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے وہ سمرہ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے غلام کو قتل کرے ہم اس کو قتل کریں گے ۲؎اور جو اپنے غلام کے اعضاء کاٹے ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے۔(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اور نسائی نے دوسری روایت میں یہ زیادہ کیا کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے ہم اسےخصی کرینگے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎خواجہ حسن بصری تابعی ہیں،اولیائے امت کے سردار اورسمرہ ابن جندب صحابی،آپ بصرہ میں رہے اس لیے خواجہ حسن بصری نے بہت سی روایات آپ سے لیں۔
۲
؎اس حدیث کی بنا پر حضرت ابراہیم نخعی و سفیان ثوری نے فرمایا کہ آقا سے اپنے غلام کا قصاص لیا جائے گا۔(مرقات)باقی تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مولیٰ سے غلام کا قصاص نہیں لیا جاتا،وہ حضرات اس حدیث کی تین توجیہیں فرماتے ہیں:ایک یہ کہ یہ حکم ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے تاکہ مولٰی اپنے غلام کو قتل کرنے کی ہمت نہ کرے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شراب پیئے اسے کوڑے مارو،پھر پیئے پھر مارو،پھر پیئے پھر مارو،پھر پیئے پھر مارو ،پھر پیئے تو قتل کردومگر اس کے باوجود حضور کی خدمت اقدس میں چوتھی بار شراب پینے والا لایا گیا تو اسے قتل نہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ وہ حکم ڈرانے کے لیے تھا۔دوسرے یہ کہ اس سے آزاد کردہ غلام مراد ہے اسے غلام فرمانا پہلے حال کے لحاظ سے ہے۔تیسرے یہ کہ حدیث منسوخ ہے"اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ"سے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک مولےسے اپنے غلام کا قصاص نہیں لیا جاتا مگر دوسرے کا غلام قتل کردینے سے قصاص لیا جاتا ہے،امام مالک و شافعی رحمۃ اعلیہما کے ہاں اس کا بھی قصاص نہیں،ان کے ہاں آزاد و غلام میں غلام کا قصاص کسی آزاد سے نہیں لیا جاتا اس کی مکمل بحث کتب فقہ میں ہے۔(مرقات،اشعہ،لمعات)
۳
؎اس پر سارے علماءحتی کہ ابراہیم نخعی و سفیان ثوری کا بھی اتفاق ہے کہ غلام کے اعضاء کا قصاص آزاد سے نہیں لیا جاتا لہذا اب حدیث سب کے نزدیک واجب التاویل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3473