Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3470

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ،وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تقام الحدود في المساجد،ولا يقاد بالولد الوالد". رواه الترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسجدوں میں اکی حدیں قائم نہ کی جائیں ۱؎اور بیٹے کی وجہ سے باپ سے قصاص نہ لیا جائے ۲؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسجد میں مجرموں کے فیصلے تو کرو مگر مسجدوں میں سزائیں نہ دو کہ اس میں مسجدوں کی بے حرمتی ہے کہ سزاؤں میں خون وغیرہ بھی نکلتا ہے جس سے مسجد خراب ہوگی،مسجدیں نماز،ذکر،درس وغیرہ کے لیے ہیں یہ کام ان کے خلاف ہے۔
۲
؎یعنی اگر باپ اپنے بیٹے کو ظلمًا قتل کردے تو اس کے عوض باپ کو قتل نہ کیا جاوے گا بلکہ اس سے دیت لی جائے گی،ماں،دادا،نانا سب کا یہ ہی حکم ہے۔یہ ہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ و امام شافعی و احمد کا،امام مالک کے ہاں ان سب سے قصاص لیا جاوے گا۔خیال رہے کہ اگر بیٹا باپ کو قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جاوے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3470