Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3461

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَة قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا هَلْ عِنْدكُمْ شَيْءٌ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ، وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: "لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا" فِي "كِتَابِ الْعِلْمِ".

وعن أبي جحيفة قال: سألت عليا هل عندكم شيء ليس في القرآن؟ فقال: والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة، ما عندنا إلا ما في القرآن إلا فهما يعطى رجل في كتابه، وما في الصحيفة، قلت: وما في الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الأسير، وأن لا يقتل مسلم بكافر. رواه البخاري. وذكر حديث ابن مسعود: "لا تقتل نفس ظلما" في "كتاب العلم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ۲؎تو فرمایا اس کی قسم جس نے دانہ چیرا اور جان پیدا کی ہمارے پاس کچھ نہیں سوائے اس کے جو قرآن میں ہے۳؎سوائے اس سمجھ کے جو کسی شخص کو دی جائے کتاب امیں۴؎اور وہ جو اس صحیفہ میں ہے ۵؎میں نے پوچھا کہ صحیفہ میں کیا ہے فرمایا دیت اور قیدی کو چھوڑانا۶؎اور یہ کہ مسلمان کافر کے عوض نہ قتل کیا جائے ۷؎(بخار ی)اور حضرت ابن مسعود کی حدیثلا تقتل نفس ظلمًا،الخکتاب العلممیں ذکر کردی گئی ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام وہب ابن عبداہے،عامری ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کی ہے مگر بہت بچپن میں،حضور کے وصال شریف کے وقت بہت کمسن تھے،کوفہ میں قیام رہا،حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں آپ کی طرف سے افسر مال رہے،وہاں ہی ۷۴ھ؁ ∞ میں وفات پائی،حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے آپ سے بہت روایات ہیں۔
۲
؎زمانہ حیدری میں روافض پیدا ہوچکے تھے انہوں نے مشہور کررکھا تھا کہ حضرت علی کہ پاس قرآن کریم کے علاوہ اور صحیفے اور خصوصی اسرار الہیہ ہیں جوکسی کے پاس نہیں اس لیے اکثر لوگ جناب علی مرتضیٰ سے ایسے سوالات کرتے تھے۔عندکممیں خطاب تمام اہل بیت رسول اسے ہے جن کے امیر حضرت علی ہیں۔(مرقات)یعنی آپ کے یا آپ کے خاندان والوں کے پاس کوئی خصوصی چیز ہے جو عام مسلمانوں کو نہ دی گئی ہو۔
۳
؎مافی القرآنمیں حدیث شریف بھی داخل ہے کیونکہ حدیث شریف قرآن مجید کی شرح اور اس کی تفسیر ہے۔
۴
؎یعنی رب تعالٰی نے مجھے قرآن مجید کی سچی اچھی فہم عطا فرمائی ہے جس سے میں ایسے قرآنی نکات نکال لیتا ہوں جو تم کو معلوم نہیں ہوتے۔اس فرمان عالی سے اجتہاد استنباط اور فقہ کا ثبوت ہوا کہ فہم قرآن اکی بڑی نعمت ہے۔
۵
؎یعنی ہاں ان اوراق میں کچھ شرعی احکام ہیں جو شاید تمہارے پاس نہ ہوں،یہ کوئی خاص اسرار نہیں جوکسی کو بتائے نہ جائیں۔
۶
؎یعنی اس صحیفہ اور اوراق میں قتل خطاء وغیرہ کی دیت و خون بہا کے کچھ احکام ہیں کہ کس جرم کی دیت کتنی ہے اور یہ حکم ہے کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان قیدیوں کو آزاد کرو،مقروضوں کی امداد کرو،مکاتبین کا بدل کتابت ادا کرو کہ یہ سب قیدی چھوڑانے کی صورتیں ہیں۔
۷
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی وغیرہم فرماتے ہیں كه اگر مسلمان کسی کافر کو قتل کردے تو اس کے عوض مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا بلکہ اس کی دیت دلوائی جائے گی مگر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہیں ان کے قتل سے مسلمان پر قصاص نہیں،رہےذمی کفار اور مستامن جو ہماری امان میں ہمارے ملک میں رہتے ہوں یا باہر سے آئے ہوں ان کو اگر مسلمان قتل کردے تو قصاص لیا جائے گا کیونکہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نےفدماءھم کدمائنا و اموالہم کاموالناان ذمیوں مستامنوں کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں اور ان کے مال ہمارے مالوں کی طرح ہیں اسی لیے اگر مسلمان چور کافر ذمی کا مال چرالے تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے،نیز عبدالرحمن بن سلمان نے روایت کی کہ حضور کے زمانہ شریف میں ایک مسلمان نے کسی ذمی کو قتل کردیا تو حضور نے اسے قتل کرایا،وہ احادیث پاک کی شرح ہے۔
۸
؎یعنی وہ حدیث کہ نہیں قتل کیا جاتا کوئی نفس مگر آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے قابیل کا اس میں حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے ظلمًا قتل ایجاد کیا مصابیح میں یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت سے کے لحاظ سےکتاب العلمکے شروع میں رکھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3461