Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3472

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جدِّهِ، عَن سُراقةَ ابنِ مالكٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ الأَبَ مِنِ ابْنِهِ،وَلَا يُقِيدُ الِابْنَ مِنْ أَبِيه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ.

وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن سراقة ابن مالك قال: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيد الأب من ابنه،ولا يقيد الابن من أبيه. رواه الترمذي وضعفه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ سراقہ ۱؎ابن مالک سے راوی فرماتے ہیں میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ باپ کا قصاص بیٹے سے لیتے تھے اور بیٹے کا قصاص باپ سے نہ لیتے تھے ۲؎ترمذی نے اسے ضعیف فرمایا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سراقہ ابن مالک ابن جعثم ہے،مدلجی کنعانی ہیں،مقام قدید میں رہتے تھے،بڑے شاعر تھے،ان کا واقعہ ہے کہ ہجرت کے دن آپ غار ثور تک بری نیت سے پہنچے تھے اورآپ کے گھوڑے کو زمین نے پکڑ لیا تھا،پھر اس جگہ ایمان بھی لائے امان بھی حاصل کی،آپ ہی سے حضور نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ میں کسریٰ پرویز کے کنگن دیکھتا ہوں،آپ کی وفات ۱۲۰ھ؁ ∞ میں ہوئی۔شعر
ابن مالک کو دی بشارت تاج اے میرے غیب داں تیرے صدقے
۲
؎یعنی اگر باپ کو بیٹا قتل کردیتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس کا قصاص بیٹے سے لیتے تھے اور اگر اس کے برعکس بیٹے کو باپ قتل کردیتا تو باپ سے قصاص نہ لیتے تھے۔
۳
؎وجہ ضعف یہ ہے کہ اس کی اسناد میں اضطراب ہے مگر خیال رہے کہ قریبًا تمام اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیتے اس عمل علماء سے حدیث کا ضعف جاتا رہا،اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3472