Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3465

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ناصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ! قَتَلَنِي، حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه.

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة، ناصيته ورأسه بيده، وأوداجه تشخب دما، يقول: يا رب! قتلني، حتى يدنيه من العرش". رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قیامت کے دن مقتول قاتل کو لائے گا کہ اس کی پیشا نی و سر اس کے ہاتھ میں ہوگا ۱؎اور مقتول کی رگیں خون بہاتی ہوں گی۲؎اور عرض کرے گا یارب اس نے مجھے قتل کیا تھا حتی کہ اسے عرش کے قریب کردے گا۳؎(ترمذی، نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں ضمیریں قاتل کی طرف لوٹتی ہیں یعنی قاتل کا سر مقتول کے ایک ہاتھ میں ہوگا اور قاتل کی پیشانی کے بال دوسرے ہاتھ میں جب کسی چیز کو مضبوط پکڑنا ہو تو ایسے ہی دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہیں،یہاں سختی گرفت دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا۔
۲
؎اوداججمع ہےودجٌکی یاودجانکی،یہ گردن کے آس پاس دو رگیں ہوتی ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے ذبح میں یہ ہی رگیں کاٹی جاتی ہیں،یہ جمع بمعنے تثنیہ ہے جیسے"فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"میںقلوبجمع بمعنی تثنیہ ہے۔
۳
؎مطلب یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں قتل کا مقدمہ بہت اہتمام سے پیش ہوگا اور خاص طور پر سنا جائے گا لہذا قتل مؤمن سے بچو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3465