Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3484

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ شَطْرَ كَلِمَةٍ لَقِيَ اللّٰهَ مَكْتُوبٌ بينَ عينيهِ: آيسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ". رَوَاهُ ابْن مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من أعان على قتل مؤمن شطر كلمة لقي الله مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة الله". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول انے کہ جوکسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات سے بھی مددکرے تو وہ اتعالٰی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کی درمیان لکھا ہوگا اکی رحمت سے ناامید ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱؎یعنی جس شخص نے کسی سےاقتلامر کا آدھا کلمہاُقبھی کہہ دیا اور قاتل نے اس مسلمان کو قتل کردیا تو مرتے وقت یا قبر میں یا قیامت میں اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ شخص اکی رحمت سے مایوس ہے،اس طرح تمام قیامت میں بدنام ہو جائے گا، اگر اس شخص نے حلال جان کر قتل کیا تھا تو یہ لفظآیس من رحمۃ اﷲبالکل ظاہر ہے کہ یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ"اور اگر نفسانی وجہ سے مارا تھا تو مایوس سے مراد انہیں رحمت سے مایوس ہے۔خیال رہے کہ حضور کی امت کی قیامت میں ضرور پردہ پوشی ہوگی مگر جو بندہ دنیا میں خود ہی علانیہ گناہ کرتا رہا ہو اس کی پردہ پوشی نہ ہوگی کہ اس نے خود اپنی پردہ دری کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3484