Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3481

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نفًرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمَالأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا. رَوَاهُ مَالِكٌ.

عن سعيد بن المسيب: أن عمر ابن الخطاب قتل نفرا خمسة أو سبعة برجل واحد قتلوه قتل غيلة، وقال عمر: لو تمالأ عليه أهل صنعاء لقتلتهم جميعا. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک شخص کے عوض پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیاجنہوں نے اسے فریب سے قتل کردیا تھا ۱؎اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر سارے صنعاء والے اس پر مل جائیں تو میں ان سب کو قتل کردیتا۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎غلیہغیلسے بنا بمعنی خفیہ،دھوکہ،فریب یعنی ان چند لوگوں نے خفیہ طور پر سازش کرکے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔
۲
؎صنعاءیمن کی ایک بستی ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر ساری بستی والے مل کر اسی ایک شخص کو قتل کردیتے تو اس کے عوض ان سب کو قتل کردیتا۔معلوم ہوا کہ چند قاتل ایک قتل میں قتل کیے جائیں گے کہ سزا سب کی یہ ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3481