Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3450

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَذَهَبْتُ أَطْعَنُهُ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "أَقَتَلْتَهُ وَقَدْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ تَعَوُّذًا قَالَ: "فهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أسامة بن زيد قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أناس من جهينة، فأتيت على رجل منهم، فذهبت أطعنه فقال: لا إله إلا الله، فطعنته فقتلته، فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: "أقتلته وقد شهد أن لا إله إلا الله؟ " قلت: يا رسول الله! إنما فعل ذلك تعوذا قال: "فهلا شققت عن قلبه؟ ". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جہینہ کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا ۱؎تو میں ان میں سے ایک شخص کے سر پر پہنچا اسے نیزہ مارنے لگا تو اس نے کہہ دیالا الہ الا اﷲمگر میں نے اس کے نیزہ مارکر قتل کردیا ۲؎پھر میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۳؎فرمایا کیا تم نے اسےقتل کردیا حالانکہ وہ گواہی دے چکا تھالا الہ الا اﷲکی میں نے کہا یارسول ااس نے بچنے کے لیے کہا۴؎فرمایا تم نے اس کا دل کیوں نہ چیرلیا ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قبیلہ جہینہ کے کفار سے جہاد کرنے کو لشکر اسلام بھیجا جس میں میں بھی تھا،حضرت اسامہ حضور علیہ السلام کے بہت محبوب صحابی ہیں۔
۲
؎کیونکہ میں اپنے اجتہاد سے سمجھا یہ کہ یہ شخص فقط جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے دل سے نہیں پڑھتا،یہ بھی سمجھا کہ ایسی مجبوری کی حالت میں اسلام لانا قتل سے نہیں بچاتا کیونکہ سورۂ سجدہ کی آخری آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے"قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ"۔اس آیت کی بنا پر میں نے اسے کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کردیا،یہ ہے خطاء اجتہادی۔
۳
؎یہ خبر اس لیے دی کہ مجھے پتہ لگ جائے کہ میں نے اس اجتہاد میں غلطی تو نہیں کی۔
۴
؎کیونکہ اس نے دل سے مسلمان ہونا تھا تو پہلے ہوا ہوتا یہ کیا کہ جب تلوار سر پر پہنچی تب کلمہ پڑھا،یہ جان بچانے کے لیے تھا،یہ ہوئی وجہ اجتہاد۔
۵
؎یعنی تم کو کیا خبر کہ اس کے دل میں کیا ہے اخلاص یا بچانے کا بہانہ ایسی صورت میں ظاہری کلمہ کا اعتبار کرنا چاہیے تھا،یہاں دل چیرنے سے مراد دل کا حال معلوم کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں ورنہ دنیا سے امان اٹھ جائے،کسی کافرکے ایمان لانے کی کوئی سبیل نہ رہے کہ اس پر بہانہ بازی کا الزام لگادیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3450