Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3467

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَزَالُ الْمُؤمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا،فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

وعن أبي الدرداء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يزال المؤمن معنقا صالحا ما لم يصب دما حراما،فإذا أصاب دما حراما بلح". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

رویت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مؤمن آدمی جلدی کرنے والا نیک رہتا ہے ۱؎جب تک کہ حرام خون نہ کرے پھر جب حرام خون کر لیتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صالحًالفظموقنًاکی تفسیر ہے یا تفصیل یعنی بندہ مؤمن کو نیک اعمال میں جلدی کرنے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔خیال رہے کہ توفیق خیر ملنا رب تعالٰی کی خاص مہربانی ہے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر
دستگیر و رہنما توفیق دہ جرم بخش و عفو کن بکشا گرہ
۲
؎یعنی قتل ناحق کی نحوست سے انسان توفیق خیر سے محروم رہ جاتا ہے۔بلحبلوحًاکے معنے ہیں تھک جانا،محروم رہ جانا،حیران ہوجانا یہ حیرانی دنیا میں تو اس طرح ہوگی کہ اس کے دل کو اطمینان،نیکیوں کی توفیق میسر نہ ہوگی اور خدشہ ہے کہ جوابات قبر میں حیرانی رہ جائے اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کے حساب میں حیران و سرگرداں رہے،غرضکہ خون ناحق دنیا و آخرت کا وبال ہے۔خیال رہے کہ ظلمًا قتل کرنا،قتل کرانا،قتل میں مدد دینا،بعد قتل قاتل کی حمایت کرنا سب ہی اس سزا کے مستحق ہیں۔مرقات میں ایک حدیث نقل فرمائی کہ فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے قتل ناحق میں آدھی بات سے مدد دی وہ کل قیامت میں اٹھے گا تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگاآیسٌ من رحمۃ اﷲیہ اکی رحمت سے مایوس ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3467