Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3475

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ،وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِه". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.

وعن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المسلمون تتكافأ دماؤهم، ويسعى بذمتهم أدناهم، ويرد عليهم أقصاهم،وهم يد على من سواهم، ألا لا يقتل مسلم بكافر، ولا ذو عهد في عهده". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎فرمایا مسلمان کے خون برابر ہیں ۲؎اور ان کی ذمہ داری ادنی آدمی کرسکتا ہے ۳؎اور رد کرسکتا ہے دور کا آدمی ۴؎اور مسلمان اپنے مقابل پر ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۵؎خبردار مسلمان کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے ۶؎اور نہ معاہدہ والا اپنے ذمہ میں ۷؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حضرت علی کے صحیفہ سے لی گئی جو آپ لوگوں کو دکھایا کرتے تھے۔(مرقات)
۲
؎یعنی ہر مسلمان کے قتل کا ایک حکم ہے کہ عمد میں قصاص خطایا شبہ عمد میں دیت خواہ امیر ہو یا غریب، بوڑھا جوان ہو یا بچہ،مرد ہو یا عورت،عالم ہو یا جاہل،چودھری نمبر دار ہو یا معمولی حیثیت کا مسلمان،امیر قاتل سے غریب مقتول کا قصاص لیا جائے گا۔
۳
؎یعنی اگر جہاد میں کوئی معمولی مسلمان کسی کافر کو امان دے دے تو سب کو اس کی امان کا احترام کرنا ہوگا کوئی اسے قتل نہیں کرسکتا۔
۴
؎اس جملہ کے بہت معنی ہو سکتے ہیں قریب تر معنی یہ ہے کہ اگر مقام جہاد سے دور رہنے والا مسلمان کسی کافر کو امان دےدے تو کسی مجاہد کو اسے قتل کرنے کا حق نہیں ،یا یہ مطلب ہے کہ اگر جہاد کے موقعہ پر مجاہدین کی ایک جماعت دار الحرب میں بہت دور نکل گئی دوسری جماعت بہت پیچھے رہ گئی،پھر غنیمت ملی تو اس غنیمت میں ان کا حصہ بھی ہوگا جو پیچھے رہ گئی ہے۔
۵
؎کہ مشرقی مسلمان مغربی مسلمان کا مددگار ہے ایک پر مصیبت سب پر مصیبت ہے افسوس کہ اب مسلمانوں کا عمل اس کے برعکس ہے۔
۶
؎اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ حربی کافر کے عوض مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔
۷
؎یعنی اگر ہمارا ذمی کافر کسی حربی کافر کو قتل کر آئے تو ہم اس کے عوض اس ذمی کافر کو قتل نہ کریں گے،اس جملہ کے احناف کے ہاں یہ ہی معنے ہیں لہذا مسلم قاتل کو حربی کافر کے عوض بھی قتل نہ کیا جائے گا۔اس صورت میں معطوف و معطوف علیہ میں مناسبت ہوگی،بعض ائمہ کے نزدیک اس کے معنی ہیں کہ مستامن و ذمی کو قتل نہ کرو انہیں امان دو مگر اس صورت میں معطوف و معطوف علیہ میں مناسبت نہیں،نیز یہ معنے بھی مذہب حنفی کی تائید کرتے ہیں کہ ذمی و مستامن کو قتل نہ کیا جائے اگر کوئی مسلمان اسے قتل کردے تو قصاص ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3475