Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3477

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وعَن أبي شُريحٍ الخُزاعيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ -وَالْخَبْلُ: الْجُرْحُ- فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ: بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ، فَإِنْ أخًذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا أَبَدًا". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن أبي شريح الخزاعي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من أصيب بدم أو خبل -والخبل: الجرح- فهو بالخيار بين إحدى ثلاث: فإن أراد الرابعة فخذوا على يديه: بين أن يقتص أو يعفو، أو يأخذ العقل، فإن أخذ من ذلك شيئا، ثم عدا بعد ذلك فله النار خالدا فيها مخلدا أبدا". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو شریح خزاعی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا خون کیا گیایا اس کو خیل کیا گیا یعنی زخمی ۲؎تو اسے تین چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے اگر چوتھی چیز چاہے۳؎تو اس کا ہاتھ پکڑو یا وہ قصاص لے لے یا معانی دے دے یا دیت لے لے۴؎پھر اگر ان میں سے کوئی چیز اختیار کرے پھر اس کے بعد زیادتی کرے ۵؎تو اس کے لیے آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۶؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خویلہ ابن عمرو کعبی عدوی خزاعی ہے،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے۔ (مرقات)
۲
؎عمدًا قتل و زخم مراد ہے کیونکہ خطاءً قتل و زخم میں قصاص نہیں ہوتا،قتل کی صورت میں تو ولی مقتول کو اختیار ہے اور زخم کی صورت میں خود مجروح کو اختیار ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔
۳
؎مثلًا قصاص بھی لے اور دیت بھی چاہے یا معاف بھی کرے قصاص بھی لے،یہ اجتماع چوتھی صورت ہے یا مثلًا ظالم نے اس کی انگلی کاٹی تھی یہ مجروح اس کا پورا ہاتھ کاٹنا چاہے۔
۴
؎کس زخم کی کتنی دیت ہے اس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔
۵
؎کہ معاف کرچکنے کے بعد قصاص یا دیت لے لے یا دیت کے بعد قصاص یا قصاص کے بعد دیت لے لے۔
۶
؎اگر اس نے یہ ظلم حلال سمجھ کر کیا تو اس کا دوزخ میں ہمیشہ ابد الاباد تک رہنا ظاہر ہے اور اگر حرام جان کر کیا تو یہاںخلودسے مراد بہت عرصہ تک دوزخ میں رہنا ہے کیونکہ دوزخ کی ہمیشگی صرف کفار کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3477