Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3453

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قتل نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جهنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من تردى من جبل فقتل نفسه، فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه، فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جو پہاڑ سے چھلانگ لگاکر اپنےآپ کو ہلاک کرلے ۱؎تو وہ دوزخ کی آگ میں چھلانگ لگاتا رہے گا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۲؎اور جو زہر پی کر اپنےآپ کو ہلاک کرے تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ پیتا رہے گا۳؎اور جو اپنےآپ کو لوہے سے ہلاک کرے تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تردّیکے لغوی معنے ہیں اپنے کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا،اب اصطلاح میں مرنے کے لیے کودنے چھلانگ لگانے کوتردیکہا جاتا ہے یہاں یہ ہی معنے مراد ہیں۔
۲
؎یا توخلودکے معنے ہیں بہت دراز ٹھہرنا،ابدًااس درازی کی تاکید کے لیے ہے یا اس سے وہ شخص مراد ہے جو یہ کام حلال سمجھ کر کرے کہ اب وہ کافر ہوگیا،یا یہ مطلب ہے کہ اس طرح خودکشی کرنے والا اس ہمیشگی عذاب کا مستحق ہے اگرچہ اتعالٰی اسے ایمان کی برکت سے رحم فرما کر دوزخ سے نکال دے گا لہذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کتنا ہی گنہگار ہو آخر کار جنت میں پہنچے گا۔
۳
؎معلوم ہوا کہ جیسے دوزخ میں کھولتا پانی،سانپ بچھو کے زہر عذاب کے لیے مہیا کیے گئے ہیں یوں ہی علیٰحدہ زہربھی وہاں موجود ہے،زہر سے خودکشی کرنے والا ہمیشہ زہر کھاتا پیتا رہے گا اور اسے زہر چڑھنے کی تکلیف ہوتی رہے گی مگر جان نہ نکلے گی۔
۴
؎اس جملہ کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ وہ شخص چھری گھونپتا رہے گا اور اس سے جو تکلیف اسے دنیا میں ہوئی تھی برابر ہوتی رہے گی مگر جان نہ نکلے گی۔خلودکے وہ ہی معنے ہیں جو ابھی عرض کیے گئے۔خیال رہے کہ ڈاکو،باغی پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے گی،خودکشی کرنے والے پر امام ابوحنیفہ و محمد کے نزدیک نماز جنازہ نہیں،امام ابویوسف کے ہاں پڑھی جائے،شہید پر نماز جنازہ ہمارے ہاں ہے،امام شافعی کے ہاں نہیں،وہ کہتے ہیں اس کے سارے گناہ شہادت سے معاف ہوگئے پھر نماز جنازہ کی کیا ضرورت ہے،ہم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ معافی گناہ کے لیے نہیں ہوتی ورنہ چھوٹے بچوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر نہ ہوتی بلکہ یہ اظہار شرافت کے لیے ہوتی ہے،شہید اس کا زیادہ مستحق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3453