Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3464

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لأَكَبَّهُمُ اللّٰهُ فِي النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي سعيد وأبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لو أن أهل السماء والأرض اشتركوا في دم مؤمن لأكبهم الله في النار". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اگر زمین و آسمان والے ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوجائیں ۱؎تو اتعالٰی انہیں آگ میں اوندھا ڈال دے ۲؎اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آسمان والوں سے مراد ان انسانوں کی روحیں ہیں جو یہاں فوت ہوچکے یا جو ابھی دنیا میں آئی نہیں۔مقصد یہ ہے کہ قتل ایسا جرم ہے کہ ایک قتل کی وجہ سے بہت کو عذاب ہوسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک شخص کو چند آدمی مل کر قتل کریں تو سب کو قتل کیا جائے گا۔اژدہام کے قتل کا اور حکم ہے جہاں جماعتیں لڑیں اور دو طرفہ آدمی ماریں جائیں پتہ نہ لگے کہ کون کس کا قاتل ہے جسے عربی میں قتل عمیہ کہتے ہیں لہذا حدیث واضح ہے۔خیال رہے کہ جان نکالنے والے فرشتے اکے حکم سے جان نکالتے ہیں کسی کو ظلمًا قتل نہیں کرتے لہذا وہ اس حکم سے خارج ہیں،آج حاکم اسلام قانون اسلامی کے ماتحت بہت لوگوں کو قتل کراتا ہے،جلاد حاکم کے حکم سے مجرم کو قتل کرتا ہے۔
۲
؎بعض روایات میں بجائےلا کبھم لکبھمہے کیونکہکبکے معنے ہیں اوندھا ڈالا اوراکبکے معنے ہیں اوندھا گرا،یہ ایسا لفظ ہے کہ مجرد میں متعدی ہے باب افعال میں آکر لازم،لکبتلغت میں یوں ہی ہے لیکن اگر حضور کے فرمان میںلاکبہمہو تو لغت جھوٹی ہے حضور سچے ہیں۔(اشعہ و مرقات)غرضکہ لغت قرآن و حدیث کے تابع ہیں قرآن و حدیث لغت کے تابع نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3464