Main Icon

باب:قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3460

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ -وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ- ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ ابْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ: لَا وَاللّٰهِ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا أَنَسُ كِتَابُ اللّٰهِ الْقِصَاصُ"، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ لَوْ أَقسَمَ عَلَى اللَّه لأَبَرَّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: كسرت الربيع -وهي عمة أنس بن مالك- ثنية جارية من الأنصار، فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأمر بالقصاص، فقال أنس ابن النضر عم أنس بن مالك: لا والله لا تكسر ثنيتها يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا أنس كتاب الله القصاص"، فرضي القوم وقبلوا الأرش فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ربیع نے جو انس ابن مالک کی پھوپھی ہیں ۱؎ایک انصاری عورت کا دانت توڑ دیا ۲؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی حضور نے قصاص کا حکم دیا تو انس ابن نضر نے جو انس ابن مالک کے چچا ہیں عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم اس کا دانت وانہ توڑا جائے گا۳؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے انس اکی تحریر قصاص ہے ۴؎پھر قوم راضی ہوگئی اور دیت قبول کرلی ۵؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اکے بندوں میں وہ ہیں کہ اگر اپر قسم کھالیں تو اتعالٰی ان کی قسم پوری کرے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ربیع ر کے پیش ب کے کسرہ ی کے شدوکسرہ سے بنت نضر انصاریہ ہیں،حارثہ بنت سراقہ کی والدہ صحابیہ ہیں،انس ابن مالک ابن نضر کی پھوپھی،مالک ابن نضر کی بہن۔
۲
؎ثنیہوہ دانت ہے جو رباعی دانتوں اور کیلوں کے درمیان ہے اس کی جمعثنایاآتی ہے۔
۳
؎یعنی رب کی قسم مجھے اتعالٰی کے کرم سے امید قوی ہے کہ وہ اس لڑکی اور اس کے وارثوں کو دیت لینے پر راضی کردے گا ان کے دل میں رحم ڈال دے گا اور میری بہن ربیع قصاص سے بچ جائے گی،اس میں حضور کے فرمان کا انکار نہیں ورنہ کفر لازم آتا ہے اور ان پر سختی کی جاتی۔
۴
؎یعنی حکم شرعی تو یہ ہی ہے کہ قصاص لیا جائے کہ دانت کے عوض دانت توڑا جائے وہ لڑکی معاف کردے اور اس کے عزیز راضی ہوجائیں ان کی خوشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ"اور فرماتاہے: "السِّنَّ بِالسِّنِّ
۵
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اتعالٰی اپنے مقبول بندوں کی قسم پوری کردیتا ہے ان بزرگ نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ربیع کے دانت نہ توڑے جائیں گے رب تعالٰی نے ان کی قسم پوری فرمادی اور دیت پر صلح کرادی،یہ ہےلو اقسم علی اﷲ لابرہکا ظہور۔
۶
؎اس میں انس ابن نضر کی تعریف ہے کہ تم اتعالٰی کے ایسے مقبول بندے ہو کہ رب تعالٰی پر قسم کھا جاؤ تو رب تعالٰی تمہاری قسم پوری فرمادے،دیکھو تم نے قسم کھالی تھی رب تعالٰی نے پوری کردی اور ممکن ہے کہ دیت قبول کرلینے والوں کی تعریف ہو کہ یہ لوگ ایسے نیک ہیں اور انہوں نے اس وقت ایسا نیک کام کیا ہے کہ اگر یہ آئندہ رب تعالٰی پر قسم کھالیں تو رب تعالٰی ان کی قسم پوری فرمادے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں شفاعت اور سفارش کرنا بہتر ہے اور عورت سے بھی قصاص لیا جائے گا اور اگر دانت پورا توڑ دیا جائے تو اس میں قصاص ہے۔دانت کا ٹکڑا توڑ دینے میں آئمہ کا اختلاف ہے،ہڈی توڑ دینے کے قصاص میں بہت تفصیل ہے اگر دیکھنا ہو تو کتب فقہ کا مطالعہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3460