Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1381

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهٖ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهٖ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهٗ ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَهٗ مَا بَيْنَهٗ وَبَين الْجُمُعَة الْأُخْرٰى» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن سلمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :«لا يغتسل رجل يوم الجمعة ويتطهر ما استطاع من طهر ويدهن من دهنه أو يمس من طيب بيته ثم يخرج فلا يفرق بين اثنين ثم يصلي ما كتب له ثم ينصت إذا تكلم الإمام إلا غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص ۱∞؎جمعہ کے دن غسل کرے اور بقدر طاقت صفائی کرے اور اپنے تیل میں سے کچھ لگالے یا اپنے گھر کی خوشبو مل لے ۲؎پھر مسجد جائے تو دو شخصوں کو الگ نہ کرے ۳؎پھر جو تقدیر میں لکھی ہے وہ نماز پڑھے ۴؎پھر جب امام خطبہ پڑھے تو خاموش رہے ۵؎اور اب سے دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ بخشے نہ جائیں ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں صرف مرد کا ذکر ہوا کیونکہ نماز جمعہ صرف مردوں پر فرض ہےعورتوں پر نہیں اور بعض احادیث میں عورتوں کا ذکر ہے وہاں عبارت یہ ہے"مَنْ اَتَی الْجُمُعَۃَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ"اس لیئے جمعہ میں عورتوں کو آنا بھی مستحب ہے،مگر اب زمانہ خراب ہے عورتیں مسجدوں میں نہ آئیں۔(مرقاۃ)اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں سینماؤں،بازاروں،کھیل تماشوں،اسکولوں،کالجوں میں جائیں، صرف مسجد میں نہ جائیں گھروں میں رہیں،بلاضرورت شرعیہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔اسی لیئے فقیر کا یہ فتویٰ ہے کہ اب عورتوں کو باپردہ مسجدوں میں آنے سے نہ روکو اگر ہم انہیں روکیں تو یہ وہابیوں،مرزائیوں،دیوبندیوں کی مساجد میں پہنچتی ہیں جیسا کہ تجربہ ہوا۔ان لوگوں نے عورتوں کے لیئے بڑے بڑے انتظامات اپنی اپنی مسجدوں میں کیئے ہوئے ہیں عورتوں کو گمراہ کرکے ان کے خاوندوں اور بچوں کو بہکاتے ہیں۔۲؎اس سے معلوم ہوا کہ گھر میں خوشبو عطر وغیرہ رکھنا اور کبھی ملتے رہنا خصوصًا جمعہ کو ملنا سنت ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم کو خوشبو بہت پسند تھی۔۳؎اس طرح کہ نہ تو لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ساتھیوں کو چیرکر ان کے درمیان بیٹھے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے۔بعض لوگ مسجد میں پیچھے پہنچتے ہیں او رپہلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ا س سے سبق لیں۔۴؎تحیۃ المسجد کے نفل یا سنت جمعہ،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔غرضکہ اس سے جمعہ کے فرض مراد نہیں کیونکہ آیندہ خطبہ سننے کا ذکر ہے فرض جمعہ خطبہ کے بعد ہوتے ہیں۔۵؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔دوسرے یہ کہ جس تک خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو وہ بھی خاموش رہے کیونکہ یہاں خاموشی کو سننے پر موقوف نہ فرمایا۔۶؎دوسرے جمعہ سے مراد آیندہ جمعہ ہے یا گزشتہ،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خزیمہ بلکہ ابوداؤد کی روایات میں ہے۔معلوم ہوا کہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1381