Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1398

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: «يَا مَعْشَرَ الِمُسْلِمينَ إِنَّ هٰذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللهُ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا وَمَنْ كَانَ عِنْدَهٗ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهٗ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنهُ

وعن عبيد بن السباق مرسلا قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في جمعة من الجمع: «يا معشر المسلمين إن هذا يوم جعله الله عيدا فاغتسلوا ومن كان عنده طيب فلا يضره أن يمس منه وعليكم بالسواك» . رواه مالك ورواه ابن ماجه عنه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید ابن سباق سے(ارسالًا)۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جمعوں میں سے ایک جمعہ میں فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ یہ وہ دن ہے جسے الله نے عید بنایا لہذا نہاؤ اور جس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگانے میں ضر ر نہیں۲؎اور مسواک لازم پکڑو ۳؎(مالک)اور ابن ماجہ نے ان سے

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ عبید تابعی ہیں،وہ بغیرصحابی کا ذکر کیئے حدیث بیان فرمارہے ہیں،اسی کا نام ارسال ہے۔۲؎یعنی جمعہ ہفتہ کی عید ہے اس میں خوشی جشن اورمسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے اگر میلے کچیلے گئے تو کپڑوں اور جسم کی بدبو سے لوگوں کو تکلیف ہوگی،بعض حضرات عیدمیلاد،عرس بزرگان میں نہاکر،صاف کپڑے پہن کر جاتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔جب مسلمانوں کے مجمع میں جانا ہو وہاں اچھے لباس اور پاکیزہ جسم سے جانا چاہئیے اسی لیئے عرفات میں غسل کرنا،صاف کپڑے پہننا سنت ہے۔نقصان نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عطر و خوشبو عورتوں کے لیئے خاص نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں لوگوں کا خیال تھا اور اس سے بھوت پلید چمٹتے ہیں جیسا کہ مشرکینِ ہند کا عقیدہ ہے اسی لیئے پرانے ہندو عطرنہیں ملتے۔۳؎یعنی جمعہ کے وضو میں مسواک کرو۔یہ مطلب نہیں کہ نماز پڑھتے وقت مسواک کرو کیونکہ مسواک سنت وضو ہے نہ کہ سنت نماز جیسا کہ وضو کی بحث میں عرض کیا جاچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1398