Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1396

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: فَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِلَغْوٍ فَذٰلِكَ حَظُّهٗ مِنْهَا. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللهَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهٗ. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَذٰلِكَ بِأَنَّ اللهَ يَقُولُ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ أَمْثَالِهَا. .) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يحضر الجمعة ثلاثة نفر: فرجل حضرها بلغو فذلك حظه منها. ورجل حضرها بدعاء فهو رجل دعا الله إن شاء أعطاه وإن شاء منعه. ورجل حضرها بإنصات وسكوت ولم يتخط رقبة مسلم ولم يؤذ أحدا فهي كفارة إلى الجمعة التي تليها وزيادة ثلاثة أيام وذلك بأن الله يقول: (من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها. .) رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں تین طرح کے شخص آتے ہیں جو وہاں بیہودگی کے لیئے گیا تو اس کا یہی حصہ ہے ۱∞؎اور جوشخص وہاں دعا کے لیئے حاضر ہوا تو یہ ایسا شخص ہے جس نے الله سے دعا مانگی اگر چاہے دیدے چاہے منع کردے ۲؎اور وہ شخص جو وہاں سننے اور خاموشی کے لیئے گیا نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگی اور نہ کسی کو ایذاء دی تو یہ جمعہ اگلے جمعے اور تین دن زیادہ کے لیے کفارہ۳؎یہ اس لیے ہے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جو نیکی لایا اس کے لیئے دس گنا ہیں۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بعض لوگ جمعہ میں محض شغل کے لیئے جاتے ہیں اورمسجد و نماز کے آداب کا لحاظ نہیں رکھتے وہ بجائے ثواب گنہگار ہوکر لوٹتے ہیں۔اس میں بہت صورتیں داخل ہیں:عورتوں کی تاک جھانک کرنے،جوتا چرانے،محض جلسہ و مجمع دیکھنے،مسجد میں دوستوں سے خوش گپیاں کرنے وغیرہ کے لیئے وہاں جانا یا نمازی حکام سے عرض معروض کرنے کہ یہاں بآسانی ان سے ملاقات ہوجائے گی یا مالداروں سے بھیگ مانگنے۔غرضکہ کسی فاسد نیت سے جمعہ میں جانا محرومی کا ذریعہ ہے۔۲؎یہ جملہ تصوف کی جڑ ہے کہ عبادات محض دعاؤں یا حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیئے نہ کرو،رب کو راضی کرنے کے لیئے کرو،اگر اس کی رضا نصیب ہوگئی سب کچھ مل جائے گا۔خیال رہے کہ خطبہ میں زبان سے دعا مانگنا حرام ہے۔۳؎یعنی ان لوگوں کی نیت صرف اطاعت اور عبادت ہے نہ کہ محض دعا مانگنا،یہ دعا بھی مانگتے ہیں تو اس لیئے کہ رب کا حکم ہے،یہ لوگ بہت کامیاب لوٹتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں انصاف اور سکون علیٰحدہ معنی میں ہے امام سے دو ر فقط خاموش رہے،پاس والا بھی خاموش رہے اور سنے بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1396