Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1397

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا وَالَّذِي يَقُولُ لَهٗ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهٗ جُمُعَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من تكلم يوم الجمعة والإمام يخطب فهو كمثل الحمار يحمل أسفارا والذي يقول له أنصت ليس له جمعة» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو جمعہ کے دن امام کے خطبہ پڑھتے ہوئے باتیں کرے وہ اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا دفتر اٹھائے ۱∞؎اور جو اس سے کہتا ہے خاموش رہو اس کا جمعہ نہیں ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎جیسے یہ گدھا کتابوں کے علم سے فائدہ نہیں اٹھاتا صرف بوجھ میں دبتا ہے ایسے ہی یہ شخص خطبہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا محض آنے جانے کی تکلیف برداشت کرتاہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ بحالت خطبہ دینی و دنیوی کوئی گفتگو جائزنہیں۔امام احمد نے دور والے سامعین کو جہاں خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو ذکر کی اجازت دی،یہ حدیث ان کے خلاف ہے کیونکہ یہاں کلام مطلق ہے۔۲؎یعنی اس کا جمعہ کامل نہیں کیونکہ یہ اپنی نصیحت پرخود عامل نہیں کہ اوروں کو تو خاموش کر رہا ہے خود بولتا ہے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ صحابہ نے بحالت خطبہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے بارش کی دعا کرائی ہے،بعض نے قیامت کے بارے میں کچھ پوچھا ہے ان کی وہ عرض و معروض یا خطبہ شروع ہونے سے پہلے تھی یا ختم ہونے کے بعد یا وہ سب کچھ اس حدیث سے منسوخ ہے یا ان بزرگوں کی خصوصیات ہے،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ممانعتِ کلامکی حدیث کی تائید قرآن پاک سے ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ"(ھٰکَذَا قَالُوْا)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1397