Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1392

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَخَطّٰى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جَسْرًا إِلٰى جَهَنَّمَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيب

وعن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من تخطى رقاب الناس يوم الجمعة اتخذ جسرا إلى جهنم» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن انس جہنی سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے دوزخ کی طرف پل بنالیا ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎مرقاۃ میں ہے کہ مؤلف سے اس نام سے بھول ہوئی کیونکہ معاذ ابن انس کے والد یعنی انس جہنی صحابی نہیں۔حق یہ ہے کہ عبارت یوں ہے"عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ اَبِیْہِ"یا یہاں "عَنْ اَبِیْہِ"درست نہیں۔واللّٰہ اعلم!۲؎یعنی یہ پھلانگنا سخت گناہ ہے اور دوزخ میں جانے کا ذریعہ کیونکہ اس میں مسلمانوں کی توہین بھی ہے اور ایذا بھی،ہاں اگر اگلی صفوں میں جگہ ہو اور لوگ سستی سے پیچھے بیٹھ گئے ہوں تو اس جگہ کو پُر کرنے کے لیئے آگے جاسکتا ہے کیونکہ یہاں قصور ان بیٹھنے والوں کا ہے نہ کہ اس کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1392