Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1388

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشٰى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهٗ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ: أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أوس بن أوس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من غسل يوم الجمعة واغتسل وبكر وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام واستمع ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة: أجر صيامها وقيامها ". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اوس ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو جمعہ کے دن نہلائے اور نہائے ۱∞؎اور جلدی آئے اور جلدی کام کرے ۲؎اور پیدل آئے سوار نہ ہو ۳؎اور امام سے قریب بیٹھے اور کان لگا کر سنے ۴؎اور کوئی بیہودگی نہ کرے تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے عمل روزوں اور شب بیداریوں کا ثواب ملے گا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز سے پہلے بیوی سے صحبت کرے تاکہ وہ بھی نہائے اور یہ بھی نہائے اور جمعہ کے وقت دل میں سکون رہے،نگاہیں نیچی رہیں۔بعض نے فرمایا ان دو لفظوں کے معنی یہ ہیں کہ کپڑے دھوئے اور خود نہائے،بعض کے نزدیک یہ معنی ہیں کہ خطمی وغیرہ سے سر دھوئے اور نہائے۔۲؎یعنی مسجد میں بھی جلد حاضر ہو اور جو نیکیاں کرنی ہوں ذکر،تلاوت،صدقہ،خیرات وہ سب کچھ جلدی کرے اسی لیئے بعض حضرات زیارت قبور بھی نماز سے پہلے ہی کرتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔۳؎تاکہ ہر قدم پر نیکیاں ملیں عید کے دن عید گاہ کو پیدل جانا بھی بہتر ہے۔۴؎تاکہ خطبہ سنے بھی اور خاموش بھی رہے کیونکہ دور والا خاموش تو رہے گا سن نہ سکے گا،کوشش کرے کہ صف اول میں بیٹھے۔۵؎حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں،یہ مسجد میں آنے کا ثواب ہے پچھلی حدیثوں کا مضمون اس کے خلاف نہیں،اجر بقدر عمل ملتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1388