Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1384

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلیٰ بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا كان يوم الجمعة وقفت الملائكة علی باب المسجد يكتبون الأول فالأول ومثل المهجر كمثل الذي يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كبشا ثم دجاجة ثم بيضة فإذا خرج الإمام طووا صحفهم ويستمعون الذكر»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں ۱∞؎آگے پیچھے آنے والوں کو لکھتے ہیں ۲؎اور دوپہری میں وہاں پہنچنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو اونٹ کی ہدی بھیجے ۳؎پھر اس کی سی جو گائے کی ہدی بھیجے پھر دنبے کی پھر مرغی کی پھر انڈے کی خیرات کرے ۴؎پھر جب امام نکلتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ غور سے سنتے ہیں ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ فرشتے مخصوص ہیں جن کی ڈیوٹی جمعہ کو لگتی ہے،اعمال لکھنے والے نہیں،بعض نے فرمایا کہ جمعہ کی طلوع فجر سے کھڑے ہوتے ہیں،بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے،مگر حق یہ ہے کہ سور ج ڈھلنے سے شروع ہوتے ہیں کیونکہ اسی وقت سے وقت جمعہ شروع ہوتا ہے۔۲؎معلوم ہوا کہ وہ فرشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں۔خیال رہے کہ اگر اولًا سو آدمی ایک ساتھ مسجد میں آئیں تو وہ سب اول ہیں۔۳؎یعنی جو سورج ڈھلتے ہی وقت جمعہ داخل ہوتے ہی مسجد میں آجائے اسے مکہ معظمہ اونٹ کی ہدی بھیجنے والے کا ثواب ہے۔۴؎اس میں اشارۃً بتایا گیا کہ حج صرف ا میروں پر فرض ہے اسی لیئے ان کی ہدی صرف اونٹ،گائے کی ہوگی مگر جمعہ غریبوں پربھی فرض ہے اسی لیئے ان کی یہ ہدی مرغی کے انڈے کی بھی قبول ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ہدی تو صرف اونٹ،گائے،بکری کی ہوتی ہے یہاں مرغی،انڈے کا ذکر کیوں ہوا۔خیال رہے کہ ہدی قربانی کا وہ جانور ہے جو مکہ معظمہ ذبحہ کے لیئے بھیجا جائے گا کہ وہاں ثواب زیادہ ملتا ہے۔۵؎یعنی جب امام خطبہ کے لیئے منبر پر آتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفتر لپیٹ کر انسانوں کے ساتھ خطبہ سننے لگتے ہیں،اب جو اس وقت آئے گا نہ اس کا نام ان کے دفتر میں لکھا جائے گا نہ اسے جلد آنے کا ثواب ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1384