Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1385

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة أنصت والإمام يخطب فقد لغوت (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اگر جمعہ کے دن تو اپنے ساتھی سے کہے کہ چپ رہو جب کہ امام خطبہ پڑھتا ہو تب بھی تم نے بیہودہ کام کیا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ کے وقت دینی بات کرنا بھی منع ہے۔دیکھو ا س وقت خاموشی کا حکم دیناامربالمعروفہے مگر منع ہے لہذا اس وقت تلاوتِ قرآن،سنت و نفل نماز سب ہی منع ہے کہ یہ چیزیںامر بالمعروفسے کم ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اس حالت میں بولنے والوں کو ہاتھ سے خاموشی کا اشارہ کرے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے بحالت خطبہ ایک شخص کو سنتیں پڑھنے کا حکم دیا وہاں حضور صلی الله علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے جیسے حضرات حسنین کی آمد پر آپ نے خطبہ بندکردیا انہیں گود میں لے لیا لہذا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں خطبہ جاری رہنے کی حالت مراد ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ خطیب خطبہ روک کر کسی سے کلام کرسکتا ہے جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان سے خطبہ کی حالت میں پوچھا کہ دیر میں کیوں پہنچے اور صرف وضو کرکے کیوں آئے،غسل کیوں نہیں کیا۔غرضکہ سامعین کا اور حکم ہے خطیب کا اور حکم اور خطیب بھی تبلیغی کام کرسکتا ہے دنیوی نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ خطبہ سے پہلے مؤذن کا لوگوں کو یہ حدیث پڑھ کر سنانا بدعت حسنہ ہے لیکن خطیب کا منبر پر پہنچ کر لوگوں کو سلام کرنا ناجائز۔یونہی خطبے کے دوران میں دعائیہ کلمات پر مؤذن کا اونچی آواز سےآمینکہنا منع۔خیال رہے کہ روافض اپنے خطبوں میں خلفائے راشدین کو گالیاں دیا کرتے تھے ان کے مقابلے میں ا ہل سنت ان کے نام لے کر ان پر درود بھیجتے ہیں۔حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ اہل بیت اطہار کو خطبہ میں گالیاں دیتے تھے تو انہوں نے یہ تلاوت فرمائی:"اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسانِ"الخ۔یہ سب بدعتیں ہیں مگر چونکہ انہیں مسلمان اچھا جانتے ہیں اس لیئے اچھی ہیں۔(مرقاۃ)اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1385