Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1383

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهٗ مَا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصٰى فَقَدْ لَغَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى الجمعة فاستمع وأنصت غفر له ما بينه وبين الجمعة وزيادة ثلاثة أيام ومن مس الحصى فقد لغا» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو وضو کرے تو اچھا کرے ۱∞؎پھر جمعہ میں آوے تو خاموش رہے اور کان لگا کر سنے ۲؎تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہ مع تین دن کی زیادتی کے بخش دیئے جائیں گے جس نے کنکر پکڑے اس نے لغو کیا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ وضو کے فرائض،سنتیں،مستحبات سب ادا کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں،سنت ہے۔جو صرف وضو ہی کرے وہ گنہگار نہیں۔امام مالک کے ہاں یہ غسل واجب ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔۲؎اس طرح کہ اگر دور ہو تو صرف خاموش رہے اور اگر امام سے قریب ہو کہ خطبہ کی آواز آرہی ہو تو کان لگا کر سنے۔۳؎یعنی خطبہ کے وقت صرف زبان سے خاموشی کافی نہیں بلکہ سکون و اطمینان سے بیٹھنا بھی ضروری ہے،کنکر پتھروں سے کھیلنا بھی ممنوع ہے۔اسی لیئے علماء فرماتے ہیں کہ خطبہ کے وقت دامن یا پنکھے سے ہوا کرنا بھی منع ہے اگرچہ گرمی ہو،اس وقت ہمہ تن خطبہ کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1383