Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1395

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهٖ وَيَجْلِسَ فِيهِ. قِيلَ لِنَافِعٍ: فِي الْجُمُعَةِ قَالَ: فِي الْجُمُعَةِ وَغَيرهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن نافع قال: سمعت ابن عمر يقول: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقيم الرجل الرجل من مقعده ويجلس فيه. قيل لنافع: في الجمعة قال: في الجمعة وغيرها(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر کو فرماتے سنا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی کسی کو اس جگہ سے اٹھائے اور وہاں خود بیٹھ جائے ۱∞؎نافع سے کہا گیا کہ کیا جمعہ میں فرمایا جمعہ میں اور غیر جمعہ میں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث کی عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ دونوں کام الگ منع ہیں جو صرف اٹھائے مگر اس کی جگہ بیٹھے نہیں تو ایک گناہ کا مرتکب ہے اور جو بیٹھ بھی جائے وہ دوگنا کا۔اس حکم سے وہ صورتیں علیحدہ ہیں جہاں شرعًا اٹھانا جائز ہو۔امام اپنے مصلےٰ سے مؤذن اپنی تبکیر کی جگہ سے دوسرے کو ہٹا سکتا ہے،ایسے ہی اگر یہ جگہ پہلے سے کسی اور آدمی کی تھی وہ اپنا رومال یا پگڑی رکھ کر وضو کرنے گیا دوسرا اس کی جگہ بیٹھ گیا وہ اسے اٹھا سکتا ہے
۲
؎دوسری مجلسوں میں بھی۔خیال رہے کہ کسی کے گھر جا کر اس کی عزت کی جگہ نہ بیٹھو اگر تم بیٹھ گئے تو صاحبِ خانہ تمہیں وہاں سے اٹھاسکتا ہے کیونکہ یہ جگہ اس کی اپنی ہے اسی لیئے حضورصلی الله علیہ وسلم نےمِنْ مَقْعَدِہٖفرمایا یعنی بیٹھے ہوئے کو اس کی اپنی جگہ سے نہ ہٹاؤ اور یہاں یہ جگہ اس کی تھی ہی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1395