Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1400

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «حَقًّا عَلَی الِمُسْلِمينَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلْيَمَسَّ أَحَدُهُمْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهٖ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالْمَاءُ لَهٗ طِيبٌ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن البراء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «حقا علی المسلمين أن يغتسلوا يوم الجمعة وليمس أحدهم من طيب أهله فإن لم يجد فالماء له طيب» . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ جمعہ کے دن غسل کریں ۱∞؎اور اپنے گھر کی خوشبو سے لگائیں اگر نہ پائیں تو پانی ہی اس کے لیئے خوشبو ہے ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حقًااگر وجوب کیلئے ہے تو منسوخ ہے کہ شروع میں جب مسلمانوں پرغریبی بہت تھی،موٹا پہنتے تھے،دھوپ میں کا م کرتے تھے تب جمعہ کا غسل فرض تھا،پھر فرضیت منسوخ ہوگئی،سنت باقی ہے اور اگر سنت مراد ہے تو حدیث محکم،بعض علماء کے نزدیک غسل جمعہ ہرمسلمان کے لیئے سنت ہے نماز کو آئے یا نہ آئے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ یہاں خطاب جمعہ پڑھنے والوں کے لیئے ہے،نیز ان کے ہاں بھی جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیئے خوشبو لگانا سنت نہیں۔۲؎یعنی ا گر عطر خریدنے کی طاقت نہ ہو مگر اس کی تمنا ہو تو اسے غسل میں ہی اس کا ثواب بھی مل جائے گا۔مقصد یہ ہے کہ عطرکسی سے مانگو مت گھر میں ہو تو لگا لو ورنہ خیر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1400