Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1387

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهٖ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهٗ ثُمَّ أَتَى الجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ ثُمَّ صَلّٰى مَا كَتَبَ اللهُ لَهٗ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُہٗ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهٖ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من اغتسل يوم الجمعة ولبس من أحسن ثيابه ومس من طيب إن كان عنده ثم أتى الجمعة فلم يتخط أعناق الناس ثم صلى ما كتب الله له ثم أنصت إذا خرج إمامہ حتى يفرغ من صلاته كانت كفارة لما بينها وبين جمعته التي قبلها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو جمعہ کے دن غسل کرے وہ اپنے بہترین کپڑے پہنے ۱∞؎اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو لگائے ۲؎پھر جمعہ میں آئے تو لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے پھر جو اس کے مقدر میں لکھا ہے نماز پڑھ لے پھر جب امام نکلے تو خاموش رہے حتی کہ نماز سے فارغ ہو جائے ۳؎تو اس جمعے اور اگلے جمعہ کے درمیان کا کفارہ ہوگا۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء فرماتے ہیں کہ مرد کے لیئے سفید کپڑے بہتر ہیں عورت کے لیئے رنگین،مرد کے لیئے سرخ و پیلے کپڑے منع ہیں خواہ بننے کے بعد رنگے گئے ہوں یا رنگے ہوئے سوت سے بنے گئے ہوں۔(مرقاۃ)۲؎صرف مرد لگائے،عورتوں کو خوشبو لگا کر نکلنا منع ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ خوشبو لوگوں سے مانگے نہیں کہ سوال منع ہے۔۳؎صاحبین کے ہاں خطبہ شروع ہونے سے کلام سلام منع ہے،ان کی دلیل پچھلی حدیثیں تھیں۔امام اعظم کے نزدیک امام کے خطبے کے لیئے نکلنے سے کلام و سلام حرام ہوجاتا ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر مذہب امام اعظم قوی ہےکہ اس میں احتیاط بھی ہے اور دونوں حدیثوں پرعمل بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1387