Main Icon

باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1382

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الجُمُعَةَ فَصَلّٰى مَا قُدِّرَ لَهٗ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتّٰى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهٖ ثُمَّ يُصَلِّيَ مَعَهٗ غُفِرَ لَهٗ مَا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرٰى وَ فَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّام» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى و فضل ثلاثة أيام» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جو غسل کرے پھر جمعہ کو آئے ۱∞؎پھر جو مقدر میں ہے وہ نماز پڑھے پھر خاموش بیٹھے حتی کہ امام خطبہ سے فارغ ہوجائے پھر اس کے ساتھ نماز پڑھے تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان اور تین دن زیادہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء فرماتے ہیں کہ غسلِ جمعہ نماز کے لیئے مسنون ہے نہ کہ دن جمعہ کے لیئے لہذا جس پر جمعہ کی نماز نہیں ان کے لیئے غسل سنت نہیں،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نماز جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسل جمعہ کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔۲؎یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے،پچھلی حدیث میں آٹھ دن کا ذکر تھا یہاں دس کا مگر دونوں درست ہیں۔جتنا خشوع زیادہ اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1382