Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4750

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هٰذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: سَمُّوْا بِاِسْمِيْ وَلَا تَكْتَنُوْا بِكُنْيَتِيْ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم في السوق فقال رجل: يا أبا القاسم فالتفت إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنما دعوت هذا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے ابو القاسم ۱∞؎تو اس کی طرف نبی صلی الله علیہ سلم نے توجہ فرمائی وہ بولا کہ میں نے تو اس کو بلایا ہےتب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام تو رکھو میری کنیت نہ رکھو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کسی شخص کا نام ابوالقاسم تھا اس نے اسے پکارا۔
۲
؎مقصد یہ ہے کہ اگر ہزاروں کے نام محمد ہوں تو دھوکہ نہ ہوگا کیونکہ حضور کو صرف نام سے پکارنا حرام ہے،اب جو حضور کو پکارے گا وہ یارسول الله کہے گا یامحمد نہ کہے گا،اگر یامحمد کہہ کر پکارے گا تو کسی اور محمد کو پکارے گا نہ کہ حضورکو، الله تعالٰی نے ہمارے حضور کو نام لے کر نہ پکارایا ایہاالنبی یا ایہا الرسولسے پکارا لہذا نام کے اشتراک میں شبہ و دھوکہ نہ ہوگا کنیت کے اشتراک میں ضرور دھوکا ہوگا۔(مرقات)لہذا حدیث واضح ہے۔پس حضور انور کو یا ابا القاسم کہہ کر پکار سکتے ہیں کہ یہ حضور کا لقب ہے جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نبی الله مگر یامحمد کہہ کر نہیں پکارسکتے کہ محمد حضور کا نام شریف ہے،دیکھو مرقات حضور انور کے بڑے صاحبزادے کا نام قاسم تھا اس نام سے آپ کی کنیت ابوالقاسم ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4750