Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4782

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمُّوا أَسْمَاءَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَامٌ أَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي وهب الجشمي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو وہب جشمی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو ۱∞؎اور الله تعالٰی کو زیادہ پسند نام عبدالله اور عبدالرحمن ہیں۲؎اور بہت سچے نام حارث،ہمام ہیں۳؎اور بہت برے نام حرب اور مرہ ہیں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرات انبیاءکرام کے نام پر نام رکھو فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو کسی کا نام جبریل یا عزرائیل نہ رکھو یوں ہی جاہلیت کے نام ممنوع ہیں جیسے کلب،حمار،عبدالشمس وغیرہ کہ یہ نام ممنوع ہیں ان کا اثر بھی برا ہوتا ہے۔(مرقات)۲؎یوں ہی عبدالکریم عبدالرحیم وغیرہ۔خیال رہے کہ ان ناموں کی محبوبیت انبیاءکرام کے ناموں کے مقابلہ میں نہیں بلکہ بے معنی ناموں کے مقابل ہے۔
۳
؎کیونکہ حارث کے معنی ہیں کماؤ،حرث کہتے ہیں کمائی کو۔ھمامکے معنی ہیں قصد و ارادہ کرنے والا،ھمکہتے ہیں ارادہ کو۔ کوئی شخص کمائی یا ارادہ سے خالی نہیں ہوتا لہذا یہ نام بہت سچے ہیں نام مطابق کام کے ہیں۔
۴
؎کیونکہ حرب کے معنی ہیں جنگ و خونریزی،مرہ کے معنی ہیں جھگڑالو یا کڑوی طبیعت کا آدمی،مرہ شیطان کا نام بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4782