Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4768

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَائِكُمْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے باپوں کے نام سے بلائے جاؤ گے تو اپنے نام اچھے رکھو ۱∞؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بعض روایات میں ہے کہ انسانوں کو ان کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔غالبًا اس میں حکمت یہ ہوگی کہ حرامی لوگ رسوا نہ ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اظہار شرافت کے لیے یا حضرت حسن و حسین کی عظمت کے اظہار کے لیے کہ حضرت فاطمہ زہرا کی طرف نسبت سے ان کو حضور اقدس سے نسبت کا شرف حاصل ہوجاؤ ے۔(اشعہ)مگر ان روایات میں تعارض نہیں قیامت کے اول وقت ماؤ ں کے نام سے پکارا جاوے گا بعد میں باپوں کے نام سے یا سب کے سامنے ماں کے نام سے پکارا جاوے گا تنہائی میں باپ کی نسبت سے یا۔یہاںاباءسے مراد امہات ہے بہت دفعہ ماں باپ کو ایک دوسرے کے نام سے یاد کردیتے ہیں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4768