Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4777

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مسعودٍ الأنصاريِّ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي (زَعَمُوا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ حُذَيْفَة

وعن أبي مسعود الأنصاري قال لأبي عبد الله أو قال أبو عبد الله لأبي مسعود: ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في (زعموا) قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بئس مطية الرجل . رواه أبوداود وقال: إن أبا عبد الله حذيفة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ انہوں نے ابو عبدالله سے کہا یا ابوعبدالله نے ابو مسعود سے کہا ۱∞؎کہ آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سےزعمواکے متعلق کیا فرماتے سنا ۲؎فرمایا میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ انسان کی بری سواری ہے ۳؎(ابوداؤ د)اور فرمایا کہ ابو عبدالله حذیفہ ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ شک اس حدیث کے راویوں میں سے کسی راوی کو ہے کہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی نہ کسی سے پوچھا ابو مسعود انصاری کے حالات تو بارہا بیان ہوچکے ہیں اور ابو عبدالله کنیت ہے حضرت حذیفہ ابن یمان کی محدثین جب ابو عبدالله بولتے ہیں تو آپ مراد ہوتے ہیں۔(مرقات و اشعہ)۲؎بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر بات کے متعلق کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں بات بات میں یہ لفظ بولنے کے عادی ہوتے ہیں فرمایئے تو خصلت اچھی ہے یا بری اگر بری ہے تو کس درجہ کی اور آپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ فرماتے سنا ہے یانہیں۔
۳
؎مطیہوہ اونٹنی جس پر سوار ہو کر کسی منزل پر پہنچا جاوے،اس لفظزعمواکو حضور انور نے سواری قرار دیا اور سواری بھی بری جو منزل مقصود پر نہ پہنچائے اس لیے کہ اس لفظ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ خبر دینے والا خود تو اس پر یقین رکھتا نہیں اور خبر دینے والے کا پتہ بھی صحیح نہیں بتاتا کہ فلاں نے کہا بلکہ یوں بولتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ اگر یہ خبر جھوٹی ہو تو میں اس کا ذمہ دار نہیں نہ مجھے اس کے ذمہ دار کی خبر ہے،غیر ذمہ داری کی باتیں کرنا برا ہے جو بات کہو ذمہ داری سے کہو احتیاط سے بولو زبان پر قفل لگاؤ منہ کو لگام دو اس ایک کلمہ میں بہت نصیحتیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4777