Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4758

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اِبْنِ عُمَرَ أَنَّ بِنْتًا كَانَتْ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيْلَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عمر أن بنتا كانت لعمر يقال لها: عاصية فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر کی بیٹی کا نام عاصیہ تھا ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کا نام جمیلہ رکھا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عاصیہ عاصی بمعنی گنہگار کا مؤنث نہیں وہ تو عصیان سے بنتا ہے بلکہ عاص یا عیص کا مؤنث،عرب میں عیص گنجان درخت کو کہتے ہیں۔چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بھائی کا نام عیص ابن اسحاق تھا ایک صحابی کا نام ابوالعاص ہے ان ناموں کا ماخذ یہ ہی عیص ہے۔(مرقات)۲؎چونکہ عاصیہ کے ایک معنی گنہگار عورت بھی ہے اس لیے حضور انور نے یہ نام بدل دیا،اہل جاہلیت اس نام کے معنی کرتے تھے برائیوں سے انکار کرنے والی بی بی۔خیال رہے کہ برہ اور جمیلہ میں فرق یہ ہے کہ برہ بذات خود نیک اور جمیلہ الله تعالٰی کے فضل سے نیک بی بی جس سے نیک اعمال ہی سرزد ہوں۔جمیلہ بنا ہے جمال بمعنی حسن سے،عاصیہ کا مقابل مطیعہ ہے مگر جو جمیل ہو وہ مطیع بھی ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4758