Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4767

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: لَقِيْتُ عُمَرَ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ. قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْأَجْدَعُ شيطانٌ رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وابنُ مَاجَه

وعن مسروق قال: لقيت عمر فقال: من أنت؟ قلت: مسروق بن الأجدع. قال عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الأجدع شيطان رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے مسروق سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں حضرت عمر سے ملا تو فرمایا تم کون ہو میں بولا مسروق ابن اجدع جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اجدع شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کوفی ہمدانی ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اسلام لائے،اکابرصحابہ سے ملاقات کی،ایک بار چرائے گئے تھے پھر والدین کی تلاش پر ملے اس لیے آپ کا نام مسروق ہوا یعنی چورائے ہوئے یا اغواء کیے ہوئے ایک بار آپ بہت غریب ہوگئے تو خالد ابن عبدالله حاکم بصرہ نے آپ کو تیس ہزار درہم دینے کی کوشش کی مگر آپ نے رد فرمادیئے توکل کایہ عالم تھا۔ (مرقات)۲؎یعنی شیطان کی ایک قسم کا نام اجدع ہے یعنی ہر چیز سے کٹا ہوا اب ناک کان کٹے کو اجدع کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر تمہارے والد زندہ ہیں تو ان سے کہہ کر نام بدلو اور تاکہ تم کو ابن الاجدع نہ کہا جاوے اور اپنی اولاد میں کسی کا نام اجدع نہ رکھو تاکہ تم کو ابو الاجدع نہ کہا جاوے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4767