Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4755

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْنَى الأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللّٰهِ رَجُلٌ يُسَمّٰى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ .رَوَاهُ البُخَارِيُّ.وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهٗ رَجُلٌ كَانَ يُسَمّٰى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللهُ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل يسمى ملك الأملاك .رواه البخاري.وفي رواية لمسلم قال: أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه رجل كان يسمى ملك الأملاك لا ملك إلا الله

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن الله کے نزدیک بدترین نام کا وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھاجاوے ۱∞؎(بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا الله کا سخت غضب ناک قیامت کے دن اور خبیث ترین وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھا جاوے خدا کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس لیے کہ ان ناموں میں فخروتکبر کا اظہار ہے نہ ذلت کے نام رکھو نہ فخروتکبر کے۔خیال رہے کہ ناموں کا اور حکم ہے القاب و خطابات کا دوسرا حکم۔کسی کو ملک العلماء کا خطاب دینا ممنوع نہیں نام رکھنا ممنوع ہے، ملک الاملاک کا ترجمہ ہے بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شہنشاہ اورظاہر ہے کہ اس نام میں تکبر ہے۔اس عبارت میںرجلسے پہلے نام محذوف ہے اور یہاخنی الاسماءکی خبر ہے۔(اشعہ)۲؎یعنی حقیقی اور دائمی بادشاہ الله تعالٰی ہے بندوں کی بادشاہت و ملکیت عارضی ہے ایسے نام رکھنے والا گویا رب تعالٰی کا مقابلہ کرتا ہے۔خیال رہے کہ املاك جمع ہے ملك کی لام کے کسرہ سے اور ممالک جمع ہے ملک کی لام کے ضمہ سے ملوك جمع ہے ملک بمعنی بادشاہ کی مالک الملوک،مالک الاملاک اور مالک ممالک تمام نام ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ یہ ناراضی جب ہے جب کہ وہ شخص اس نام سے راضی ہو اگر راضی نہیں تو وبال اس کے ماں باپ پر ہے جنہوں نے اس کا نام یہ رکھا اسے چاہیے کہ اپنا نام تبدیل کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4755