Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4752

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللّٰهِ: عَبْدُ اللّٰهِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أحب أسمائكم إلى الله: عبد الله وعبد الرحمن " رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے ناموں میں رب تعالٰی کو بہت پسند نام عبداور عبدالرحمن ہے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ نام اس لیے پیارے ہیں کہ ان میں اپنی عبدیت کو رب کی طرف نسبت کیا گیا ہے تو اس میں دونوں چیزوں کا اظہار ہے اپنی عبدیت،الله کی ربوبیت یعنی انبیاءکرام کے ناموں کے بعد یہ نام رب کو بہت پسند ہیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کسی نبی کے نام پر نام رکھے،اس کے بعد یہ بہتر ہے کہ یہ نام رکھے۔یہاں عبدالله اور عبدالرحمن بطور تمثیل فرمائے گئے اسماء الہیہ میں سے کسی کی طرف عبدیت کی طرف نسبت کرے بہتر ہے۔خیال رہے کہ ملائکہ کے نام پر نام رکھنا ممنوع ہے لہذا کسی چیز کا جبریل یا میکائیل نام نہ رکھو جیساکہ حدیث میں ہے۔(مرقات)چنانچہ بخاری نے اپنی تاریخ میں ایک حدیث نقل کی کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4752