Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4769

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ نَهٰى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اِسْمِهٖ وَكُنْيَتِهٖ وَيُسَمِّىْ أَبَا الْقَاسِمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم؟ نهى أن يجمع أحد بين اسمه وكنيته ويسمى أبا القاسم. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی حضور کا نام اور آپ کی کنیت جمع کرے اور محمد ابوالقاسم نام رکھے ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس میں حضور انور نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا اس حدیث نے شرح کردی کہ حضور انور کا نام اور کنیت دونوں جمع کرنا منع ہے وہ بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ حیات شریف میں بعد وفات یہ اجتماع بھی جائز ہے۔چنانچہ حضرت علی نے اپنے ایک بیٹے کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے ان کی ماں کا نام خولہ بنت جعفر تھا،قبیلہ بنی حَنفیہ سے تھی،جنگ یمامہ میں گرفتار ہو کر آئیں،حضرت صدیق اکبر نے حضرت علی کو ہبہ کردیں آپ نے ان سے نکاح کرلیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4769