Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4754

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهٰى عَنْ أَنْ يُسَمّٰى بِيَعْلٰى وَبِبَرَكَةٍ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذٰلِكَ. ثُمَّ رَأَیْتُہٗ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن ينهى عن أن يسمى بيعلى وببركة وبأفلح وبيسار وبنافع وبنحو ذلك. ثم رأیتہ سكت بعد عنها ثم قبض ولم ينه عن ذلك. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ یعلیٰ،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان کی مثل نام رکھنے سے منع فرمادیں میں نے پھر آپ کو دیکھا کہ بعد میں اس سے خاموش رہے پھر وفات پاگئے ۱∞؎اور اس سے منع نہ فرمایا۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے علامات سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور انور ان ناموں سے ممانعت فرمادیں گے مگر کی نہیں یا تو حضرت جابر کو ممانعت کی خبر نہ ہوئی،پچھلی روایت میں ممانعت گزرچکی اور نفی کی روایت پر ثبوت کی روایت مقدم ہوتی ہے یا یہاں مراد حرمت کی نہی ہے یعنی یہ نام رکھنا حرام نہ فرمایا اور پچھلی روایات میں تنزیہی کراہت کی نہی تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔یہاں مرقات میں ناموں کی بہت تفصیل ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے خوب،ولید،رباح،حکم،کلب کلیب وغیرہ ناموں سے منع فرمایا وہ ہی کراہت تنزیہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4754