Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4771

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا فَسَمَّيْتُهٗ مُحَمَّدًا وَكَنَّيْتُهٗ أَبَا الْقَاسِمِ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهٗ ذٰلِكَ. فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اِسْمِيْ وَحَرَّمَ كُنْيَتِيْ؟ أَوْ مَاالَّذِيْ حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اِسْمِيْ؟ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ. وَقَالَ مُحِيُّ السُّنَّةِ: غَرِيْبٌ

وعن عائشة أن امرأة قالت: يا رسول الله إني ولدت غلاما فسميته محمدا وكنيته أبا القاسم فذكر لي أنك تكره ذلك. فقال: ما الذي أحل اسمي وحرم كنيتي؟ أو ماالذي حرم كنيتي وأحل اسمي؟ . رواه أبوداود. وقال محي السنة: غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول الله میں نے ایک لڑکا جنا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ۱∞؎تو مجھ سے ذکر کیا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو فرمایا وہ کیا ہے جس نے میرا نام حلال کیا اور میری کنیت حرام کی یا کس نے میری کنیت حرام کی اور میرا نام حلال کیا ۲؎(ابوداؤ د)محی السنہ نے کہا کہ یہ غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہواکہ لڑکپن میں بچہ کی کنیت ابو سے جائز ہے یہاں ابو کے معنی ہوتے ہیں والا نہ کہ والد یعنی باپ۔
۲
؎یہ حدیث صحیح نہیں اگر صحیح ہو بھی تب بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ میرا نام اور میری کنیت جمع فرمانا حرام نہیں۔ہم نے جو ممانعت فرمائی ہے وہ کراہت تنزیہی کے لیے ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں اس اجتماع کی ممانعت ہے۔(اشعہ،مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ اس اجتماع کی ممانعت دائمی نہیں ہماری حیات شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4771