Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4765

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ:خَبُثَتْ نَفْسِي وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيْثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : يُؤْذِيْنِيْ اِبْنُ آدَمَ فِي بَابِ الْإِيمَانِ

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لا يقولن أحدكم:خبثت نفسي ولكن ليقل: لقست نفسي".(متفق عليه) وذكر حديث أبي هريرة : يؤذيني ابن آدم في باب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا لیکن کہے کہ میرا نفس پریشان ہوگیا ۱ ∞؎(مسلم، بخاری)اور ابوہریرہ کی حدیث کہ مجھے ابن آدم نے ستایاباب الایمانمیں ذکر کی گئی ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں خبث اور نفس ہم معنی ہیں بمعنی پریشان برائی مگر خبث فساد عقیدہ پربھی بولا جاتا ہے کفر بیدینی خباثت ہے لہذا اپنے لیے یہ لفظ مشترک استعمال نہ کرو کہ اس میں ایک معنی سے اپنے کفر یا بے دینی کا اقرار ہے بلکہ بجائے خبیث کیلقستکہو گویا جس کے لفظ کے دو معنی ہوں اچھے و برے ایسے لفظ کو اپنے لیے نہ بولو۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ جو صبح کو پڑا سوتا رہتا ہےو ہ خبیث النفس کسلان اٹھتا ہے وہاں اپنے کو یا کسی خاص شخص کو خبیث نہیں کہا گیا بلکہ ایک قاعدہ کلیہ بیان ہوا،کسی معین مسلمان پرلعنت کرنا حرام ہے مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹے پر لعنت۔
۲
؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سےکتاب الایمانمیں بیان کردی ہے وہاں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4765