Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4776

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَقَالَ:وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْم الْعَاصِ وعزير وَعَتَلَةَ وَشَيْطَانٍ وَالْحَكَمِ وَعُرَابٍ وَحُبَابٍ وَشِهَابٍ وَقَالَ: تَرَكْتُ أَسَانِيْدَهَا لِلْاِخْتِصَارِ

وقال:وغير النبي صلى الله عليه وسلم اسم العاص وعزير وعتلة وشيطان والحكم وعراب وحباب وشهاب وقال: تركت أسانيدها للاختصار

حدیث ترجمہ

اور کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عاص عزیز عتلہ شیطان حکم عراب حباب شہاب نام تبدیل فرمائے۱؎اور کہا کہ میں نے ان کی اسنادیں مختصر کرنے کے لیے چھوڑ دیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ عاص مخفف ہے عاصی کا جس کے معنی ہیں گنہگار،اطاعت الٰہی سے علیٰحدہ یہ مؤمن کی شان نہیں مؤمن اطاعت شعار ہوتا ہے۔عتلہبنا ہےعتلسے بمعنی سختی شدت،رب تعالٰی فرماتاہے:"عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ"اب ایک مضبوط اوزار کوعتلہکہتے ہیں جس سے دیوار وغیرہ کھودی جاوے مسلمان سخت نہیں ہوتا،نیز عزیز اسماء الہیہ میں سے ہے،عزت سے بنا ہے مسلمان میں فروتنی عجز و نیا زچاہیے۔شیطان لقب ہے ابلیس کا بنا ہےشیطسے بمعنی جلنا ہلاک ہونا یاشطنسے بمعنی بھلائی سے دوری،حکم صفت مشبہ حکومت یا حکم کا بمعنی دائمی حکومت والا یہ رب تعالٰی کی صفت ہے۔غراببنا ہےغربسے بمعنی دوری یہ نام ہے کوے کا کہ وہ بہت دور نکل جاتا ہے،حباب شیطان کا نام بھی ہے اور ایک قسم کے سانپ کو بھی کہتے ہیں لہذا یہ نام بھی منحوس ہے اور شہاب آگ کے شعلہ کو بھی کہتے ہیں اور ٹوٹے ہوئے تارے کو بھی جس سے شیاطین کو بھی مارا جاتا ہے مگر یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر شہاب کو دین کی طرف مضاف کردیا جاوے اور نام ہو شہاب الدین توکراہۃ قطعًا نہیں بلاکراہۃ جائز ہے کہ اب یہ فاسد معنی نکل گئے چمکدار لہذا کراہۃ نہ رہی۔
۲
؎یعنی ابوداؤ د کہتے ہیں کہ ان تمام ناموں کی تبدیلی کی احادیث مع اسنادوں کے میرے پاس موجود ہیں مگر چونکہ وہ حدیثیں احکام شرعیہ سے متعلق نہیں ہیں اس لیے میں نے اصل حدیث تو بیان کردی اسنادیں چھوڑ دیں کیونکہ ان پر جرح قدح کی ضرورت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4776