Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4780

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدٌ فَإِنَّهٗ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تقولوا للمنافق سيد فإنه إن يك سيدا فقد أسخطتم ربكم . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا منافق کو سردار نہ کہو ۱∞؎کہ اگر وہ سید ہوا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ۲؎(ابوداؤ د)

شرح حدیث

۱∞؎اس حکم میں کافر،فاسق،منافق سب ہی داخل ہیں بلا ضرورت خوشامد کے لیے ان لوگوں کو ایسے الفاظ کہنے سخت جرم ہیں، رب تعالی نے عزیز مصر کو حضرت یوسف علیہ السلام کا سید نہ کہا بلکہ زلیخا کا سید یعنی خاوند کہا"اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ بے دین کو نہ تو صرفسیدکہو نہسید القومکہو بے دین تو ذلیل ہے سید عزت والا ہوتا ہے،یوں ہی اسے سردار،سرور،حضور وغیرہ کہنا حرام ہے کہ تعظیمی الفاظ کفار کے لیے استعمال کرنا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہیں ضرورت دین یا ضرورت دنیاوی کی وجہ سے یہ کہنا معاف ہے یوں ہی بیدینوں کو مولانا تعظیمًا کہنا جائز نہیں کہ مولیٰ تو سید سے بھی زیادہ تعظیم کا لفظ ہے الله تعالٰی کے لیے مولانا فرمایا گیاسیدنانہیں کہا گیاانت مولانا،ہاں اگر مولیٰ بمعنی غلام مراد لے کر اسے مولانا کہا جاوے تو جائز، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِخْوٰنُکُمْ فِی الدِّیۡنِ وَ مَوٰلِیۡکُمْ"بہرحال توریہ جائز ہے تعظیم ناجائز،اس کی پوری تحقیق یہاں ہی مرقات میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4780