Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4760

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِيْ وَأُمَّتِيْ كُلُّكُمْ عَبِیْدُ اللّٰهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللّٰهِ. وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي. وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي وَلٰكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي " وَفِي رِوَايَةٍ: " لِيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: " لَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهٖ : مَوْلَايَ فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللّٰهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي كلكم عبید الله وكل نسائكم إماء الله. ولكن ليقل: غلامي وجاريتي وفتاي وفتاتي. ولا يقل العبد: ربي ولكن ليقل: سيدي " وفي رواية: " ليقل: سيدي ومولاي ". وفي رواية: " لا يقل العبد لسيده : مولاي فإن مولاكم الله ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی نہ کہے کہ میرا عبد میری امۃ تم سب الله کے عبد ہو اور تمہاری تمام عورتیں الله کی لونڈیاں ہیں ۱∞؎لیکن کہے کہ میرا غلام اورمیری لونڈی اور میرا فتا اور میری فتات۲؎اور غلام نہ کہے کہ میرا رب لیکن کہے میرا سید اور ایک روایت میں ہے کہ کہے میرا سید میرا مولا۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ غلام اپنے آقا کو مولا نہ کہے کیونکہ تمہارا مولیٰ الله ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عبدبمعنی عابد بھی ہے اور بمعنی خادم بھی بمعنی عابد ہو تو صرف رب تعالٰی کی طرف نسبت ہوگا جیسے عبدالله یا عباداللہ بمعنی خادم بندوں کی طرف مضاف ہوجاتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ"چونکہ اس میں عابد کے معنی کا بھی احتمال ہے لہذا عبدی کہنا مناسب نہیں،یوں ہیامہکے معنی ہیں مملوک،حقیقی مالک رب تعالٰی ہی ہے اور حقیقی مملوک ہم سب اس کے ہیں لہذا بہتر یہ ہی ہے کہامۃکو اپنی طرف نسبت نہ کرو۔
۲
؎خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ لازمی حکم لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ" اہل عرب دن رات کہتے ہیںعبدیفقہا، ہمیشہ فرماتے ہیںعبدی حرلہذا نہ اہل عرب گنہگار ہیں نہ فقہاء۔
۲
؎رببمعنی مربی،بندہ کو کہنا جائز ہے یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے نوکر سے کہا تھا"ارْجِعْ اِلٰی رَبِّكَ"قرآن کریم میں ہے"رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا
۴
؎یہاں بھی یہ ہی ہے کہ مولیٰ کہنا بالکل جائز ہے حضور انور نے خود فرمایامولی القوم منھممگر چونکہ مولیٰ کے چند معنی ہیں: ایک معنی وہ ہیں جو صرف رب تعالٰی کی صفت ہے اس لیے اگر یہ لفظ بندے کے لیے نہ بولے تو بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ حدیثیں منسوخ ہوں ان کی ناسخ وہ احادیث و آیات ہوں جن میں بندوں کے لیے مولیٰ،عبد،سید وغیرہ کہا گیا ہے لہذا عبدالنبی،عبدالرسول وغیرہ نام جائز ہیں،صاحب درمختار کے شیخ کا نام عبدالنبی تھا دیکھو درمختار کا مقدمہ،اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4760